پولیو مہم کا غلط استعمال: ڈاکٹر شکیل اور سی آئی اے کی شدید مذمت

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے وہ پاکستان کے شبعہ صحت کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے عمل کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔
اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے امریکی خفیہ ایجسنی سی آئی اے کی جانب سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو استعمال کرنے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ادارے کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک غیر انسانی عمل ہے۔
یہ بات ادارے کے ترجمان ڈاکٹر نیما سعید عابد نے آج اسلام آباد میں منقعدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سعید نے کہا ’جو کوئی بھی، خواہ اس کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو ایسی کارروائی کرتا ہے جس سے صحتِ عامہ کی کوششوں کا غلط استعمال ہوتا ہو، وہ انتہائی قابلِ مذمت ہے‘۔
اس سے قبل مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں وسط مارچ میں انسدادِ پولیو کے عنوان سے ہونے والی علما کانفرنس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہ اس کانفرنس کے شرکا نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ پولیو ویکسین محفوظ ہے اور اس میں کوئی ممنوعہ یا حرام اجزاء نہیں ہیں۔
دنیا کے تین بقیہ مسلم ممالک سے پولیو کے خاتمے کے لیے ضروری یہ مہم ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں اور انھیں محفوظ بنائیں۔
کانفرنس کے شرکا نے عالمی ادارہِ صحت اور یونیسیف کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات کی تائید کہ شکیل آفریدی کبھی بھی ان اداروں کے ساتھ کسی بھی طور سے منسلک نہیں تھے اور نہ ہی ان اداروں کے اہلکاروں کو ایبٹ آباد میں ہونے والی کارروائیوں کی معلومات تھیں۔
ڈاکٹر سعید نے کہا کہ قاہرہ میں منعقدہ کانفرنس میں شرکاء نے کہا تھا کہ صحت کے کارکنوں پر حملے اسلام کے اصولوں اور تعلیمات کے خلاف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عالمی ادارۂ صحت نے صحت کے اہلکاروں کو جاسوسی کی کارروائیوں میں استعمال کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا فعل غیر انسانی ہے جس سے صحت سے متعلقہ پروگراموں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
طالبان کی طرف سے پولیو کی ویکسین پر پابندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گذشتہ سال جون سے دو لاکھ چالیس ہزار بچے قطرے پلائے جانے سے محروم رہے ہیں۔ یہ بات عالمی ادارۂ صحت اور انسدادِ پولیو سے وابستہ دیگر شراکت داروں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
خیال رہے کہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو غداری کے الزام پر تیس برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔







