کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے کراچی میں جاری آپریشن کی رفتار میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں جاری آپریشن کی اب تک کی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ نے حکام کو کراچی میں جاری آپریشن میں تیزی لائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جتنا جلد ممکن ہو شہر کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد سے صاف کیا جائے۔
سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ آپریشن میں شریک افسران کی بھرپور انتظامی، قانونی اور اخلاقی مدد کی جائے گی، انھوں نے افسران کو ہدایت کی عام شہری کی جان اور مال کو محفوظ بنایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وزیر اعلیٰ نے جبری ہڑتالوں اور ہنگامہ آرائی پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ہدایت کی اس حوالے سے قانون تیار کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کو جبری ہڑتالوں سے نجات دلانا چاہتی ہے اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں اور تاجروں کو حکومت کی مدد کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ تحقیقات اور پراسیکیوشن کے موجودہ قوانین میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ شفاف اور غیر جاندارانہ کارروائی کی جاسکے اور جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی رپورٹس کو قانونی حیثیت مل سکے۔
انھوں نے پولیس کو یہ بھی ہدایت کی کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر نظر رکھی جائے تاکہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی کا کنٹرول سندھ پولیس کے حوالے کرنے کی تجویز پر بھی رضامندی ظاہر کی، اجلاس میں ہوم سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے گئی جس میں تمام ایجنسیوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
یہ کمیٹی ان تھانوں کی نشاندہی کرے گی جہاں رینجرز گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات دائر کرے گی۔
آئی جی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ روز جبری ہڑتال کے موقع پر گاڑیوں کو نذر آتش کرنے والے ملزمان کو جائے وقوع سے ہی گرفتار کیا گیا اور یہ کارروائی بغیر کسی تفریق کے کی گئی۔

ادھر کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایم کیو ایم کے سابق رکن سندھ اسمبلی ندیم ہاشمی کو سات دن کےجسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے جبکہ رینجرز نے کراچی کے مختلف مختلف علاقوں سے بتیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔
جمعرات کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جج خالدہ یاسمین کے سامنے ایم کیو ایم کے سابق رکنِ اسمبلی ندیم ہاشمی کو پیش کیا گیا۔
عدالت نے ملزم کو سات دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
دوسری جانب ایم کیو ایم نے ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے بعد صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے اسمبلی سیکرٹریٹ میں ریکوزیشن جمع کرا دی ہے۔
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فیصل سبز واری کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ متحدہ کے سابق رکنِ اسمبلی کو من گھڑت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ندیم ہاشمی کو پولیس نے منگل کی رات کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے حراست میں لیا تھا۔
دریں اثناء رینجرز نے جعرات کو کراچی کے مختلف علاقوں سے بتیس افراد کو گرفتار کیا۔
یہ گرفتاریاں نصیر آباد، غفور بستی، مہران ٹاؤن، داؤد گوٹھ، سرجانی اور نیو کراچی سے کی گئیں۔
رینجرز کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد میں جرائم پیشہ اور بھتہ خور بھی شامل ہیں۔







