کراچی: پولیس مقابلے میں تین شدت پسند ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے کالعدم تحریک طالبان کے تین مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس نے تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ ایک ایسے وقت کیا ہے جب ایک دن پہلے ہی بدھ کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ کراچی میں امن و امان بحال کرنے کے لیے رینجرز کی سربراہی میں فوری طور پر ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔

کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس اس قابل نہیں ہے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کا مقابلہ کر سکے یا دہشت گردی کا انسداد کر سکے۔

کراچی سے نامہ نگار کے مطابق جمعرات کو ڈی ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کا کہنا ہے کہ ماڑی پور ایدھی قبرستان کے قریب دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے اطلاع پر پولیس نے چھاپہ مارا اور اس دوران دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں تین مبینہ دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کے پانچ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں کی لاشیں سول ہپستال پہنچائی گئی ہیں، جن کی شناخت نہیں ہو سکی تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کا تعلق تحریک طالبان سے ہے۔

ڈی ایس پی چوہدری اسلم کا کہنا ہے کہ اس بات کی بھی تفتیش بھی کی جائے گی کہ ان پر کس نوعیت کے مقدمات دائر ہے۔

پولیس نے ملزمان سے ایک کلاشنکوف، تین نائن ایم ایم پستول اور دستی بم برآمد کیے ہیں۔

کراچی میں اس سے پہلے بھی پولیس نے کئی بار کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ کچھ سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کی ایک وجہ شہر میں طالبان کی موجودگی بھی ہے۔