کراچی میں رینجرز کی کارروائی، 34 ملزمان گرفتار

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنکراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں

کراچی میں جمعرات کو رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق چھاپوں کے دوران 34 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شرافی گوٹھ، برنس روڈ، حسین ہزارہ گوٹھ، بغدادی اور دیگر علاقوں سے 34 ملزمان کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان میں سے اکثر علاقے منشیات کی فروخت کی وجہ سے مشہور ہیں۔

رینجرز کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزمان میں آٹھ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں، جب کہ دیگر بھتہ خوری میں ملوث ہیں۔

ترجمان کے مطابق ان ملزمان میں سیاسی اور کالعدم جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں، تاہم ان کی وابستگی ظاہر نہیں کی گئی۔

جمعرات کو وفاقی کابینہ نے کراچی میں رینجرز کو کارروائی میں کلیدی کردار فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ پولیس رینجرز کا ہاتھ بٹائے گی، لیکن اس فیصلے کے دوسرے روز بھی رینجرز نے آزادانہ طور پر گرفتاریاں کیں، جب کہ پولیس نے اپنے معمول کے مطابق معاملات سنبھالے۔

جمعے کو وزیرِ اعظم نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں سکیورٹی اداروں کے درمیان موثر رابطے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ کو ہدایت کی کہ کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ ملاقات میں

بدھ کے دن چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ کراچی میں امن و امان بحال کرنے کے لیے رینجرز کی سربراہی میں فوری طور پر ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔

کراچی میں اس سے پہلے بھی پولیس نے کئی بار کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ کچھ سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کی ایک وجہ شہر میں طالبان کی موجودگی بھی ہے۔