خدا جانے وہ کیا مشورہ تھا اور کیا اقدامات؟

ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے فوراً بعد سڑکیں ویران اور چند گاڑیاں نذر آتش کی گئیں
،تصویر کا کیپشنایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے فوراً بعد سڑکیں ویران اور چند گاڑیاں نذر آتش کی گئیں
    • مصنف, عامر احمد خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پچھلے دنوں فیصلہ یہ ہوا کہ پاکستان کی تجارتی اور اقتصادی شہ رگ کراچی میں لاقانونیت کے خاتمے کے لیے رینجرز کی سربراہی میں ایک ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔

اس آپریشن کی ضرورت سے متعلق مختلف آراء میں سے ایک یہ بھی تھی کہ گو اس شہر میں تقریباً ہر سیاسی جماعت کے عسکری ونگ متحرک ہیں لیکن جرائم پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد جو کبھی ان سیاسی جماعتوں کا آلہء کار ہوتی تھی اب ان کے بھی قابو میں نہیں رہی۔ اور کراچی میں خوف کا راج قائم کرنے والے ایسے سینکڑوں نامعلوم مجرموں کی سرکوبی کے لیے ایک ٹارگٹڈ آپریشن ضروری ہے۔

لیکن آج کراچی ایم کیو ایم کے سابق رکن اسمبلی ندیم ہاشمی کی گرفتاری کے فوراً بعد بند ہوا۔ سڑکیں ویران ہوئیں اور چند گاڑیاں نذر آتش کی گئیں۔ اگر ایسا ان خود سر اور بے قابو نامعلوم مجرموں نے کیا تو کیا یہ سوال جائز نہیں کہ وہ ندیم ہاشمی کی گرفتاری پر اتنے برہم کیوں ہیں؟

اور اگر یہ حرکت ان نامعلوم عناصر کی نہیں بلکہ ایک معزز اور مقبول سیاسی شخصیت کی گرفتاری پر ان کے حمایتیوں نے کی ہے تو پھر ان میں اور نامعلوم جرائم پیشہ افراد میں فرق کیا، اس سے قطع نظر کہ ندیم ہاشمی پر لگائے گئے الزامات صحیح ہیں یا نہیں۔

خود ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ندیم ہاشمی کی گرفتاری کی مذمت کی لیکن ان عناصر کی مذمت میں کچھ نہ کہا۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے آج پھر کہا کہ کراچی میں جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں ان میں تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت شامل ہے۔

خدا جانے وہ کیا مشورہ تھا اور کیا اقدامات جنہوں نے اس دو کروڑ کے شہر کی یکایک جان کھینچ لی۔