’بھارت نے شہری آبادی پر براہِ راست گولہ باری کی‘

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیرکے نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج کی ’بلااشتعال‘ گولہ باری سے ایک خاتون ہلاک اور نو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان نے ڈپٹی کمشنر کوٹلی مسعود الرحمن کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی فوج کی جانب سے سنیچر کی رات گئے بلا اشتعال گولہ باری کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر کوٹلی کے مطابق بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی پر براہِ راست گولہ باری کی۔
اسٹنٹ کمشنر کوٹلی عمر اعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ نکیال سیکٹر میں رات سے فائرنگ جاری تھی جو صبح تک جاری رہی جس کی وجہ سے شہری آبادی کافی متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولہ سالہ ارم نامی ایک لڑکی بھی زخمیوں میں شامل ہے جس کے ہاتھ پر اسپرنٹر لگنے سے فریکچر ہوا ہے اور اسے علاج کے لیے پمز ہسپتال اسلام آباد میں بھیجا کیا گیا ہے۔
عمر اعظم نے بتایا کہ زخمیوں میں نوجوانوں کے علاوہ بوڑھے بھی شامل ہیں۔
اسٹنٹ کمشنر کے مطابق فائرنگ اتنی شدید تھی کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو کئی گھنٹوں بعد ریسکیو کرایا جاسکا۔ کوٹلی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے ۔
ان کے مطابق دس سے پندرہ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، ایک گھر مکمل تباہ ہوا جبکہ ایک گاڑی بھی مکمل تباہ ہوگئی ہے۔ لوگوں میں شدید خوف ہراس پایا جاتا ہے اور ایک بے یقینی کا عالم ہے کہ کب پھر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ عمر اعظم نے کہا کہ لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں لیکن وہ اپنے گھروں کو چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نکیال کی آبادی ایک لاکھ کے قریب ہے لیکن پچیس سے تیس ہزار کے قریب افراد سرحدی علاقے کے قریب رہتے ہیں۔
2003 کے ایل او سی پر جنگ بندی کے معاہدے کے بعد گزشتہ ماہ میں ہی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے 35 مبینہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔
ان واقعات میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
جمعرات کو پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی جس میں بھارت کی طرف سے ایل او سی کی خلاف ورزیوں کی پر زور مزمت کی گئی ہے۔
دفترِ خارجہ نے کہا کے بھارتی قیادت کو پاکستانی قیادت کے امن کے نظریے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی متواتر فائرنگ سے حکومت پاکستان کو بہت تشویش ہے۔







