’بلااشتعال خلاف ورزیوں سے باہمی رشتے متاثر‘

بھارت نے کہا ہے کہ باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے لائن آف کنٹرول کا احترام کیا جانا ضروری ہے کیونکہ ایل او سی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں سے باہمی رشتے متاثر ہوتے ہیں۔
دہلی میں ایک پریس بریفنگ کےدوران وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا کہ تعلقات کی استواری کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں لائن آف کنٹرول کا احترام کیا جانا کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایل او سی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں سے تعلقات کی بحالی کی کوششیں متاثر ہوں گی۔
<link type="page"><caption> پاک بھارت مسائل؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/02/100224_pak_india_dispute.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی تفصیل</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/06/100624_india_pak_chronology.shtml" platform="highweb"/></link>
نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے کہا ’ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے اس وعدے پر قائم رہے گا کہ وہ اپنے زیر انتظام علاقوں کو بھارت کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کا الزام ہے کہ چھ اگست کی صبح پاکستانی فوج کے جوان لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی خطے میں داخل ہوئے اور بھارتی فوج کے ایک دستے پر حملہ کر کے پانچ جوانوں کو ہلاک کر دیا۔
پاکستان اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے اور اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو بھی طلب کیا ہے۔
لیکن اکبر الدین نے اس بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا کہ آیا دونوں ملکوں کے وزرا اعظم کےدرمیان نیو یارک میں ملاقات ہوگی یا نہیں۔ پہلے یہ خبریں تھیں کہ دونوں وزرا اعظم کے درمیان نیو یارک میں ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ملاقات ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ آپ کو معلوم ہے کہ ملاقاتوں کا اعلان چند روز پہلے ہی کیا جاتا ہے۔ میں کہوں گا کہ آپ ذرا صبر سے کام لیں (ستمبر میں) ابھی کافی وقت باقی ہے، ہم دیکھے گےکہ اس وقت تک حالات کیا شکل اختیار کرتے ہیں، لہذٰا اس وقت ہمیں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔‘
سیکریٹریوں کی سطح کے مجوزہ مذاکرات کے بارے میں بھی انہوں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
’ہمیں اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے تجویز حاصل ہوئی تھی لیکن جیسا میں نے کہا کہ مذاکرات پرامن ماحول میں ہی ہو سکتے ہیں۔۔۔لیکن بات چیت کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں تھی اور ہم مجموعی صورتحال پر غور کر رہے ہیں، جیسے ہی کوئی حتمی فیصلہ ہوگا اس کا اعلان کیا جائے گا۔‘
جنوری سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس وقت بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے اس کے خطے میں داخل ہوکر دو بھارتی فوجیوں کو نہ صرف ہلاک کیا تھا بلکہ ان میں سے ایک کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کیا تھا۔
اسی پس منظر میں بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر اس بات کے لیے دباؤ قائم کر رہی ہیں کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا سختی سے جواب دیا جائے اور موجودہ حالات میں پاکستان سے بات چیت نہ کی جائے۔
چند روز پہلے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔
وزیراعظم کے بقول دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کو یقینی اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
’پاکستان بھارت کے ساتھ سیاسی اور فوجی سطح پر روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید موثر بنانے کے لیے بات چیت کرنے پر تیار ہے‘۔
نواز شریف نے کہا کہ فضا کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا فریقین کی قیادت کی ذمہ داری ہے اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے منتظر ہیں اور اس میں اعتماد سازی کے اقدامات کو مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔







