لائن آف کنٹرول: ’بارہ روز میں 34 خلاف ورزیاں‘

پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر دو سیکٹرز پر جمعہ کو بھی فائرنگ کی تاہم کسی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق بھارتی فوج نے کوٹلی اور بٹل سیکٹرز میں فائرنگ کی اور لائن آف کنٹرول پر واقع آبادی کو نشانہ بنایا۔
عسکری ذرائع نے مزید کہا کہ اس سے قبل جمعرات کو بھی بھارتی فوج نے فائرنگ کی اور آبادی کو نشانہ بنایا۔
<link type="page"><caption> پاک بھارت تعلقات کا اتار چڑھاؤ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/06/100624_india_pak_chronology.shtml" platform="highweb"/></link>
بھارتی فوج کی جانب سے جمعرات کو کوٹلی سیکٹر میں فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چھ شہری زخمی ہوئے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق گزشتہ بارہ روز کے دوران بھارتی فوج نے چونتیس بار ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کی ہے۔
ان واقعات میں اب تک دو شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار پاکستانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی فوج نے آٹھ سو سے زائد مارٹراور توپ کے گولے فائر کئے جس سے کوٹلی سیکٹر میں چھ شہری زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کے ساتھ رابطے کے تمام ذرائع کھلے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے کنٹرول لائن پر فائربندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اپنے تحفظات واضح انداز میں بھارت تک پہنچا دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی، فوجی اور تجارتی ذرائع کے توسط سے ہم رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔
دوسری جانب بھارت کے وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتے جب تک پاکستان’اپنی سرزمین کو بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روکتا۔‘
بھارت کے جشنِ آزادی کے موقعے پر اپنے خطاب میں من موہن سنگھ نے مبینہ طور پر چھ اگست کو پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں پانچ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو ’بزدلانہ حرکت‘ قرار دیا۔
بھارتی وزیرِاعظم نے کہا کہ ’حال ہی میں پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر ہمارے فوجیوں پر بزدلانہ حملہ کیا گیا۔ ہم مستقبل میں اس قسم کے حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔‘







