بھارت، ایل او سی پر فائرنگ کا الزام

جموں کے علاقے میں سیکورٹی فورسز یوم آزادی کے تعلق سے حفاظت انتظامات کو لے کر تشویش میں ہیں اس لئے حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے ریاست میں چوکسی بڑھا دی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنجموں کے علاقے میں سیکورٹی فورسز یوم آزادی کے تعلق سے حفاظت انتظامات کو لے کر تشویش میں ہیں اس لئے حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے ریاست میں چوکسی بڑھا دی گئی ہے

بھارت نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ منگل کے روز کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب سے بھارت کی دس چوکیوں پرگولہ باری کی گئی ہے۔

جموں میں وزارتِ دفاع کے ترجمان راکیش کالیا کا کہنا ہے کہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر واقع پونچھ کے مینڈھر اور ہمیر پور سیکٹر میں پاکستان نے تقریباً دس بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق پاکستانی فوج نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ پیر کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے آس پاس شروع ہوئی اور صبح سویرے تک جاری رہی لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ بین الاقوامی سرحد پر واقع سانبھا سیکٹر کے پاس بھی پیر کی شام ساڑھے سات بجے فائرنگ ہوئی جس کے جواب میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے جوابی کارروائی کی۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پر واقع سلوتري گاؤں کے رہنے والے بشیر احمد کہتے ہیں کہ دوطرفہ فائرنگ سے ان کی کھیتی، مال مویشی کو کافی نقصان ہوا ہے۔

بشیر احمد کہتے ہیں: ’ان دنوں کی یاد آ گئی جب 2003 سے پہلے بھارت پاک کے درمیان مسلسل گولا باری ہوا کرتی تھی۔ اگر یہ فائرنگ اور چلی تو پھر سے اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کرنی پڑ سکتی ہے۔‘

جموں کے علاقے میں سیکورٹی فورسز یوم آزادی کے تعلق سے حفاظتی انتظامات کی وجہ سے تشویش میں ہیں اس لیے حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے ریاست میں چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔

ادھر جموں کے ضلع کشتواڑ میں عید کے روز ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے سبب ریاست کے آٹھ اضلاع میں منگل کے روز بھی کرفیو جاری ہے۔

جموں کے انسپکٹر جنرل راجیش کمار کا کہنا ہے کہ تشدد سے متاثرہ ضلع کشتواڑ میں 11 افراد کو حراست میں لیا گيا ہے۔ پولیس نے مشتبہ افراد کی تلاش میں رات بھر چھاپے مارے اور فوج بھی فلیگ مارچ کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جموں شہر میں سو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

کشتواڑ کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے پیر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کل جماعتی اجلاس بلایا تھا۔ اس اجلاس میں طے کیا گیا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے حالات پرسکون ہونے پر ایک ٹیم کشتواڑ جائے گی۔

اس دوران تین دن سے بند امرناتھ یاترا بحال ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے 18 جولائي کو بھی اسے روکنا پڑا تھا۔ 28 جون سے شروع ہونے والا یہ سفر 20 اگست تک چلےگا۔

ایل او سی پر بے چینی

ایک طویل عرصے کے بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہونے سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے
،تصویر کا کیپشنایک طویل عرصے کے بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہونے سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایل او سی پر واقع علاقے عباس پور کے رہائشی محمد سالک جنجوعہ کے مطابق ان کا مکان ایل او سی سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیر اور منگل کی رات کو نکیال سیکٹر میں لنجوٹ کے مقام پر بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے علاقے کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی کے معاہدے سے پہلے وہ فائرنگ کے واقعات کے عادی ہو چکے تھے لیکن ایک طویل عرصے کے بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہونے سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ ان سمیت بہت سارے لوگوں نے اپنے مکانات کو دوبارہ تعمیر کیا تھا اور اب فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات کے نتیجے میں ان کے مکانات اور خاندان دوبارہ خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔

محمد سالک جنجوعہ کے مطابق فائرنگ کے واقعات دوبارہ شروع ہونے سے لوگوں کے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ عباس پور میں کئی راستے براہ راست بھارتی فورسز کی چوکیوں کے نشانے پر ہیں۔ اس وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت بھی کافی متاثر ہوئی ہے اور خاص طور پر شام کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب کرتے ہیں۔