پشاور: سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، سترہ افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختوانخوا کے دارالحکومت پشاور کے حکام کا کہنا ہے کہ مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دھماکے کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک جبکہ پچیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ہلاک ہونے میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پشاور کے ڈپٹی کمشنر جاوید مروت نے بتایا کہ دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمی ہونے والے افراد میں سے تقریباً پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔
پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق دھماکہ بڈھ بیر کے تھانے کے قریب اُس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور علاقے کی تلاشی جاری ہے۔
عینی شاہد کا کہنا ہے کہ جیسے ہی سکیورٹی فورسز کا قافلہ بڈھ بیر تھانے کے قریب واقع مارکیٹ سے گزرا ویسے ہی دھماکہ ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت معلوم کی جا رہی ہے لیکن انتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد گاڑی میں نصب تھا جیسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اُڑا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں چالیس کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اُس سے اردگرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور درجن سے زائد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔
ادھر وزیراعظم نواز شریف اور صدرآصف زرداری نے دھماکے کی مذمت کی ہے اور زخمیوں کو ہر ممکن مدد کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔







