پشاور میں خودکش دھماکا، تین ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ہونے والے ایک خوکش بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا پشاور کے علاقے پجگی روڈ پر سعید آباد میں تبلیغی مرکز جامعہ علومِ اسلامیہ کے قریب ایک ورکشاپ میں ہوا۔
ایس پی سٹی خالد محمود ہمدانی نے کہا کہ دھماکے کی نوعیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب مدرسے سے ایک لینڈ کروزر گاڑی نکلی تو راستے میں پہلے سے موجود ایک نوجوان حملہ آور نے گاڑی کے قریب اپنے آپ کو دھماکے سے اْڑایا۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی۔ ایس پی خالد ہمدانی کے مطابق دھماکے میں پانچ سے چھ کلو گرام دھماکا خیز مواد اور بال بیئرنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس حملے میں لینڈ کروزر میں سوار دو افراد سمیت تین ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ دھماکے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے جماعت دعوۃ کے رہنما حیات اللہ کو نشانہ بنایا گیا تاہم وہ حملے کے وقت گاڑی میں موجود نہیں تھے اور محفوظ رہے، تاہم مزید تفتیش ہو رہی ہے۔
حیات اللہ کے ایک مہمان اور ڈرائیور اس حملے کا شکار ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس ایس پی عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ جائے وقوعہ سے ایک سر بھی ملا ہے۔
دھماکے کے بعد علاقے میں امدادی سرگرمیاں مکمل کر دی گئی ہیں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملک میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد پشاور میں بم دھماکے کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔
خیال رہے کہ پشاور اور خیبر پختون خوا کے دوسرے شہر کئی سالوں سے بم دھماکوں کی زد میں ہیں اور جمعے کے دن بم دھماکوں کی ایک نئی روایت قائم ہو گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے علاقے مالاکنڈ کے ایک قصبے بازدرہ میں سترہ مئی کو نمازِ جمعہ کے وقت دو مساجد میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں بھی 13 افراد ہلاک اور 45 سے زائد زخمی ہو ئے تھے۔
مقامی انتطامیہ کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے درگئی سے 25 کلومیٹر دور پہاڑی علاقے بازدرہ میں ہوئے۔
اسسٹنٹ کمشنر درگئی عبداللہ مشال نے بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بم پہلے سے مساجد میں نصب کیے گئے تھے۔







