پشاور دھماکا: ہلاک ہونے والوں کی تعداد سترہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے کے قریب دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سترہ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ دھماکا پشاور کے علاقے یکہ توت میں اے این پی کے جلسے کے قریب ہوا ۔ دھماکے کے وقت اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور بھی اس جلسے میں شریک تھے۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ یہ دھماکا ایک عمارت کے باہر ہوا۔ اس عمارت کی پہلی منزل پر غلام احمد بلور اور بشیر احمد بلور کے بیٹے ہارون بلور ایک اجلاس میں شریک تھے۔

اس دھماکے میں اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور معمولی زخمی ہوئے تھے۔ ان کو ایمبولینس میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اس واقعے میں ایک صحافی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

دھماکے میں دیگر ہلاک ہونے والوں میں ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکار شامل ہیں۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کالعدم تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کے مطابق یہ حملہ اے این پی کی سیکولر پالیسی کے باعث کیا گیا ہے۔