پشاور:خودکش دھماکے میں چودہ افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کے مطابق جی ٹی روڈ پر واقع شیعہ مسلک کے حسینیہ مدرسے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک اور انتیس زخمی ہوگئے۔
پولیس افسر حمید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور کے علاقے چمکنی میں گلشن کالونی میں شیعہ مسلک کے مدرسے میں نمازِ جمعہ کے وقت اس وقت ایک زوردار دھماکا ہوا جس وقت مدرسے کے اندر دو سو کے قریب لوگ موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چودہ ہے اور انتیس افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کوئی اہم شخصیت شامل نہیں ہے۔
پولیس افسر حمید خان نے بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا اور خودکش حملہ آور مدرسے تک پیدل پہنچا تھا۔اہلکار کے مطابق خودکش حملہ آور کے اعضاء مل گئے ہیں۔
پولیس اہلکار نے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ دھماکے کے وقت مدرسے میں نماز جمعہ کے لیے مقامی لوگ موجود تھے جبکہ چھٹی کی وجہ سے مدرسے میں طلباء بہت کم تھے۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے میں مدرسے کی چار دیواری اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مدرسے میں موجود ایک عینی شاہد مہدی رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مدرسہ شہید عارف حسین الحسینی کے رنگ روڈ کی جانب کھلنے والے دروازے سے کالے کپڑوں میں ملبوس 22 سالہ نوجوان جس کے پاس پستول موجود تھا اندر داخل ہوا جسے ایک اور نمازی نے پکڑنے کی کوشش بھی کی تاہم اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا‘۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پشاور اور مضافاتی علاقوں میں شیعہ مسلک کے لوگوں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں درجنوں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔
پشاور اور خیبر پختونخوا کے دوسرے شہر کئی سالوں سے بم دھماکوں کی زد میں ہیں اور جمعے کے دن بم دھماکوں کا ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے۔پشاور میں چوبیس مئی کو ہونے والے ایک خوکش بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔







