’پاکستان کو دہشتگردی کی جنگ سے نکالنے کا وعدہ‘

پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں واپس آئے تو امریکہ کی قیادت میں جاری دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ملک کو باہر نکال لیں گے۔
بی بی سی سے بات چيت میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور دنیا کے دیگر علاقوں میں امن کے لیے یہ قدم اٹھانا ضروری ہے۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان اس کا اتحادی بنا اور تب سے پاکستان اس جنگ کا ایک اہم حصہ ہے اور خطے میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں شریک ہے۔
نواز شریف سے جب یہ پوچھا گيا کہ کیا وہ پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ سے باہر کر لیں گے تو انہوں نے کہا ’ہاں یہ ہمیں کرنا ہی ہوگا‘ لیکن انہوں نے القاعدہ اور طالبان کے خلاف جاری آپریشن کو جاری یا بند کرنے رکھنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
پاکستان میں عام انتخابات کے لیے سنیچر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جس میں نواز شریف کی مسلم لیگ کو کامیاب جماعتوں میں سے ایک مانا تصور کیا جا رہا ہے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ شریف ایک بار پھر ملک کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کو اس بات کی تشویش ہے کہ اگر نواز شریف اقتدار میں آئے تو وہ اپنی سر زمین پر جاری شدت پسندوں کی سر گرمیوں پر قابو پانے کے لیے کیا اقدامات کریں گے؟۔
مغربی ممالک کو اس بات کا خدشہ ہے کہ افغانستان سے آئندہ برس نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد شدت پسند پاکستان میں پھر سے آزادانہ طور پر سرگرم ہو سکتے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں انتخابات کے لیے جاری مہم پر شدت پسند حملے کرتے رہے ہیں اور اب تک ان حملوں میں کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







