شہباز شریف کے خلاف اشتہار نشر نہ کرنے کا حکم

پاکستان الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کے دوران سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف منفی اشتہاری مہم چلانے کا نوٹس لیتے ہوئے الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کو ایسے اشتہار نشر کرنے سے روکنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بات الیکشن کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے روبرو شہباز شریف کی اس درخواست کی سماعت کے دوران بتائی جس میں انہوں نے اپنے خلاف پیپلز پارٹی کی اشتہاری مہم کو چیلنج کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے تحریری طور پر فل بینچ کو بتایا کہ درخواست گزار شہباز شریف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف منفی اشتہاری مہم پر پیمرا سے وضاحت بھی طلب کی گئی اور یہ ہدایت کی کہ ٹی وی چینلز پر سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخضیات کے بارے میں منفی اشتہارات نشر نہ کیے جائیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے الیکشن کمیشن کے تحریری جواب کی روشنی میں درخواست نمٹا دی اور قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے اس معاملے پر نوٹس لینے کے بعد اب عدالت کی کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
شہباز شریف نےدرخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ پیپلز پارٹی کی طرف مختلف ٹی وی چینلز پر ان کی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ملک محمد قیوم کی ساتھ مبینہ ٹیلی فوننگ گفتگو پر مبنی اشتہار نشر کیا جا رہا ہے اور اس اشتہار کے ذریعے ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔
ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی طرف سے بیرسٹر اعتراز احسن پیش ہوئے جبکہ سردار لطیف کھوسہ نے پیپلز پارٹی کی جانب سے پیروی کی۔
نامہ نگار عبادالحق کے مطابق بیرسٹر اعتزاز احسن نے بتایا کہ اشتہار میں شہباز شریف اور ملک قیوم کی جو گفتگو نشر کی جا رہی ہے یہ وہی گفتگو ہے جس کی ٹیپ دو ہزار ایک میں سپریم کورٹ کے روبرو پیش کی گئی تھی اور کسی نے بھی اس کی تردید نہیں کی۔
پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کی اس گفتگو کی ٹیپ سامنے آنے کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے دو ججوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اعتزاز احسن نے یہ اعتراض اٹھایا کہ شہباز شریف کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔
درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس طرح اشتہارات انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں اس لیے ان کو روکا جائے۔







