پہلوانوں کی بہو بیٹی نواز شریف کے مدِ مقابل

سائرہ زبیر معروف پہلوان زبیر عرف جھارا کی بیوہ اور گوگا پہلوان کی بیٹی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسائرہ زبیر معروف پہلوان زبیر عرف جھارا کی بیوہ اور گوگا پہلوان کی بیٹی ہیں۔

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی کزن سائرہ زبیر عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور وہ اپنی کزن کے شوہر یعنی نواز شریف کے مدمقابل امیدوار ہیں۔

سائرہ زبیر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے امیدوار ہیں جہاں سے نواز شریف بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔

سائرہ زبیر معروف پہلوان زبیر عرف جھارا کی بیوہ اور گوگا پہلوان کی بیٹی ہیں۔

ریٹرننگ آفیسر نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے نواز شریف اور سائرہ زبیر دونوں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں۔

دو ہزار آٹھ میں قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے سائرہ زبیر کے قریبی رشتہ دار بلال یاسین کو مسلم لیگ نون کا ٹکٹ دیا گیا تھا اور وہ اس حلقے سے کامیاب بھی ہوئے تاہم اس بار نواز شریف خود اس حلقے سے امیدوار ہیں۔

بلال یاسین سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اہلیہ کلثوم نواز کے بھی رشتہ دار ہیں۔

سائرہ زبیر نے یہ دعوی کیا کہ ان کو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ کی پیش کش کی تاہم وہ آزاد امید وار کے طور انتخاب لڑنا چاہتی تھیں۔

سائرہ زبیر کے مطابق جب ان کی ملاقات جنرل پرویز کی سیکرٹری سے ہوئی تو انہوں نے اپنا ادارہ تبدیل کرتے ہوئے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جماعت کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔

کلثوم نواز کی پھوپھی زاد بہن کا کہنا ہے کہ ان کی سوچ اور جنرل پرویز مشرف کا منشور ایک ہی ہے کیونکہ جنرل مشرف بھی غریب کی بات کرتے ہیں۔

ان کے بقول انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کسی کےکہنے یا مجبور ہوکر نہیں کیا۔

سائرہ زبیر نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ وہ کسی مخالفت کی وجہ سے اپنی پھوپھی زادہ بہن کلثوم کے شوہر کے خلاف عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتی کیونکہ وہ ان کے لیے عزت کی جگہ پر ہیں۔

سائرہ زبیر نے کہا کہ یہ مخالفت نہیں بلکہ نظریات کی جنگ ہے اور اگر جمہوریت ہے تو اس میں اتنا حق تو ملنا چاہئے کہ کوئی اپنی آواز آگے تک پہنچا دے۔

جھارا پہلوان کی بیوہ کے بقول ان پر مختلف طریقوں سے یہ دباو ڈالا جارہا ہے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیں تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر صورت میں انتخاب لڑیں گے اور جنرل پرویز مشرف کا ساتھ نہیں چھوڑیں گی۔