سیاست کا گھر لاہور ووٹنگ میں پیچھے

پاکستان میں انتخابات

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسن انیس سو اٹھاسی سے لے کر سن دو ہزار آٹھ تک کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا کہ ووٹ ڈالنے کی شرح کی اعتبار سے لاہور کا شمار پنجاب کے سب سے کم ووٹ ڈالنے والے اضلاع میں ہوتا ہے۔
    • مصنف, اسد علی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

لاہور میں سنیچر کو مینار پاکستان کا میدان ایک بار پھر سیاسی نعروں سے گونج اٹھا۔ تئیس مارچ کو اسی میدان میں پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا اور پھر جمیعت علمائے اسلام نے بھی، ملک گیر انتخابی مہم کے آغاز کے لیے اسی میدان کو چُنا۔

قوی امکان ہے کہ گیارہ مئی سن دو ہزار تیرہ کے تاریخی عام انتخابات سے پہلے لاہور ایک سے زیادہ بار مزید سیاسی طاقت کے مظاہروں کا مرکز بنے گا۔ کبھی یہاں ’میاں‘ کے نعرے لگیں گے اور کبھی ’جیے بھٹو‘ کے۔

تحریک انصاف کا لاہور سےانتخابی مہم کا آغاز کرنا تو سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اکثر مبصرین اسے لاہور اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں پرانی بڑی سیاسی جماعتوں کے برابر کا امیدوار سمجھ رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(نواز) بھی جب لاہور میں بڑا جلسہ کریں گی کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ اب تک پنجاب کی بڑی جماعتیں رہی ہیں اور ان کا یہاں بڑا ووٹ بینک ہے۔ لیکن جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے مینار پاکستان اور اس شہر کا انتخاب اس لیے مختلف ہے کیونکہ وہ لاہور یا پنجاب کے کسی اور علاقے میں مقابلے میں نہیں۔

لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسن دو ہزار تیرہ میں لاہور میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے علاوہ پاکستان تحریکِ انصاف بھی میدان میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار بھی لاہور والے سیاسی طور پر دیگر پنجاب کے مقابلے میں غیر متحرک نظر آتے ہیں یا اس نئے ماحول میں نئی تاریخ رقم کریں گے

لاہور کے لیے سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس طرح کی توجہ نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے لاہور میں بڑا سیاسی جلسہ کرنا ناگزیر سمجھا جاتا رہا ہے۔ بلکہ لاہور کے جلسے کی کامیابی انتخابی مہم کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی رہی ہے۔

بات اگر صرف لاہور کی نو یا اب تیرہ نشستوں کی ہوتی تو شاید اتنا شور نہ ہوتا۔ لیکن یقیناً سمجھا یہ جاتا ہے کہ لاہور پنجاب کا سیاسی دل ہے اور لاہوریوں کی حمایت پنجاب کی حمایت کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

لیکن کیا لاہوریے واقعی انتخابات میں اتنی دلچسپی لیتے ہیں کہ دوسرے بھی ان سے متاثر ہو جائیں۔ اب جبکہ ایک بار پھر عام انتخابات سر پر ہیں، یہ اس شہر کے لوگوں کا انتخابات کے بارے میں رجحان پرکھنے کا اچھا موقع ہے۔ لیکن اس پرکھ کا نتیجہ کچھ زیادہ متاثر کن نہیں۔

سن انیس سو اٹھاسی سے لے کر سن دو ہزار آٹھ تک کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا کہ ووٹ ڈالنے کی شرح کی اعتبار سے لاہور کا شمار پنجاب کے سب سے کم ووٹ ڈالنے والے اضلاع میں ہوتا ہے۔

ان چھ انتخابات میں یہاں ووٹنگ کی کل شرح چالیس فیصد بنتی ہے جبکہ مقابلتاً پنجاب کے کم سے کم چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں ووٹنگ کی شرح پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ بھکر میں ان چھ انتخابات میں ووٹنگ کی شرح انسٹھ اعشاریہ گیارہ فیصد رہی ہے۔

مینار پاکستان کے سائے میں چند ماہ میں کئی بڑے جلسے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمینار پاکستان کے سائے میں چند ماہ میں کئی بڑے جلسے ہوئے ہیں

لاہور میں ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح انیس سو نوے میں اڑتالیس اعشاریہ پچھتر فیصد تھی جب یہاں نو کی نو نشستوں(سن دو ہزار دو میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد نو سے بڑھا کر تیرہ کر دی گئی تھی) پر اسلامی جمہوری اتحاد کو کامیابی ملی تھی۔

اس شہر میں سب سے کم ووٹ سن دو ہزار دو میں ڈالے گئے جب صرف بتیس اعشاریہ اکتیس فیصد لوگوں نے یہاں ووٹ ڈالا۔ ان انتخابات میں ن لیگ نے چار، پیپلزپارٹی نے تین، متحدہ مجلس عمل اور ق لیگ نے دو دو اور پاکستان عوامی تحریک(مولانا طاہرالقادری) نے ایک نشست جیتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔

سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں لاہور میں اڑتیس اعشاریہ باسٹھ فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا اور کامیابی حاصل کرنے والی جماعت ایک بار نواز لیگ تھی جس نے تیرہ میں سے گیارہ نشتسوں پر کامیابی حاصل کی۔

انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں ووٹنگ کی شرح چھیالیس اعشاریہ گیارہ تھی اور ان انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی تھی جس نے نو میں سے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اب سن دو ہزار تیرہ میں لاہور میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے علاوہ پاکستان تحریکِ انصاف بھی میدان میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار بھی لاہور والے سیاسی طور پر دیگر پنجاب کے مقابلے میں غیر متحرک نظر آتے ہیں یا اس نئے ماحول میں نئی تاریخ رقم کریں گے۔