’ایم کیو ایم طالبان کی ہٹ لسٹ پر‘
’ کراچی میں ایم کیو ایم کو سب سے بڑا خطرہ طالبان اور دوسری کالعدم انتہاپسند تنظیموں سے ہے، اس خطرے کی وجہ سے مجھے کراچی جیسے جدید شہری علاقے میں اپنے گھر کے اردگرد خندقیں بنانی پڑیں تاکہ اگر کوئی بارود سے بھری گاڑی سے میرے گھر کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے تو کامیاب نہ ہو‘۔
یہ بات ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما اور سابق ایم این اے وسیم اختر نے مجھے اپنے گھر کے اردگرد حفاظتی اقدامات دکھاتے ہوئے بتائی۔
وسیم اختر کو پولیس پروٹیکشن بھی دی گئی ہے لیکن ان کےگھر کے اطراف خندقوں اور چوکیوں کو دیکھ کر یوں لگا کہ جیسے فاٹا کے کسی علاقے میں ہوں۔
وسیم اختر کا کہنا ہے کہ متحدہ نے چار سال پہلے کراچی میں طالبانائزیشن کے خطرے کا اظہار کیا مگر حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی اور آج صورتحال یہ ہے کہ طالبان کراچی میں اتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ وہ شہر کی سکیولر جماعتوں کو کھلے عام نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایم کیو ایم نے دو ہزار بارہ میں طالبان کے خلاف عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے ایک ریفرنڈم کا اعلان بھی کیا تھا۔ یہ ریفرنڈم منعقد تو نہ ہو سکا مگر طالبان ان کے مزید مخالف ضرور ہوگئے۔

رواں سال ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے دو ارکان اسمبلی منظر امام اور فخرالسلام کو قتل کیا گیا اور ان ہلاکتوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کی تھی۔
منظر امام کی بیوہ ارم اپنے شوہر کو لاحق خطرے سے واقف تھیں مگر یہ عملی شکل اختیار کر جائے گا اس کا انہیں آج بھی یقین نہیں ہے۔ ارم کہتی ہیں کہ دھمکیوں کا سلسلہ تو دو ہزار نو سے جاری تھا ، ایک مرتبہ دھمکی آمیز پرچی بھی آئی جس کے بارے میں گھر والوں کو بھی بتایا کہ شاید وہ بچ نہیں پائیں گے۔
پاکستان میں انتخابی مہم کے آغاز سے قبل ہی پاکستانی طالبان نے ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کے جلسوں کو نشانہ بنانے کی باقاعدہ دھمکی جاری کی تھی اور لوگوں کو ان کے جلسوں میں شرکت سے خبردار بھی کیا تھا۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق تینوں جماعتیں طالبان کی مخالفت کی وجہ سے ہٹ لسٹ پر ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبان کی جانب سے ان دھمکیوں کو عملی جامہ بھی پہنایا گیا اور کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتروں کے باہر بم حملوں نے جماعت کو شہر میں اپنے تمام انتخابی دفتر بند کرنے پر بھی مجبور کر دیا۔
ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے مطابق وہ انتہا پسندوں کے حملوں اور دھمکیوں سے خوفزدہ تو نہیں مگر اس سلسلے میں کچھ احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کی گئی ہیں۔

ان تدابیر کی ایک مثال ایم کیو ایم کا مرکزی دفتر نائن زیرو ہے جس کی سکیورٹی پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھا دی گئی ہے۔ نائن زیرو جانے کے لیے پتھر کے بیریئرز اور آہنی رکاوٹوں کے کم از کم تین ناکوں سے گزرنا پڑتا ہے جہاں متعین محافظ وائرلیس سیٹ اور اسلحہ سے لیس ہیں۔ مرکزی دفتر تک جانے والی تمام گلیوں پر آہنی بیریئرز لگے ہیں جبکہ ہرگاڑی اور ہر شخص کی تلاشی لازمی لی جاتی ہے۔
ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما فارق ستار کا کہنا ہے کہ انتہا پسند ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ایم کیو ایم انتخابات میں حصہ لینے کے اپنے قانونی ، آئینی اور جمہوری حق سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہو گی۔
تجزیہ کار فتح برفت کے مطابق خوف و ہراس کی اس فضا میں شفاف انتخابات ممکن نہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم کے غیر متوازن ہونے کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ اس وقت صوتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز تو کھلے عام بڑے جلسے جلوس کر رہی ہی مگر دوسری طرف اے این پی، پی پی پی اور ایم کیو ایم پر حملے کیے جا رہے ہیں۔







