کراچی میں یومِ سوگ، نظامِ زندگی معطل

پاکستان کے شہر کراچی میں جمعرات کی شب متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتر کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکتوں کے خلاف جمعہ کو یومِ سوگ منایا گیا ہے۔
ادھر کراچی ہی کے علاقے لانڈھی میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار پر کریکر سے حملہ کیا گیا ہے تاہم وہ محفوظ رہے ہیں۔
بم دھماکے میں ہلاکتوں کے خلاف متحدہ قومی مومنٹ کی کال پر کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں جمعہ کو یوم سوگ منایا گیا اور کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں معمولاتِ زندگی معطل رہے اور دوکانیں اور بازار نہ کھل سکے۔
ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے جمعہ کی دوپہر اعلان کیا ہے کہ نماز کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال کردی جائیں۔
جمعہ کی صبح پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہی اور اکا دکا بسیں یا منی بسیں سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں۔ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث مال بردار گاڑیاں بھی بند پورٹ نہ جاسکیں جس کی وجہ سے بندرگاہ پر ہونے والی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً نہ ہونے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد آفس اور فیکٹریوں کو نہ پہنچ سکی جس کی وجہ سے بیشتر دفاتر اور فیکٹریاں بھی بند رہیں۔
دوسری جانب سکولوں کی انجمن نے گزشتہ رات ہی اعلان کردیا تھا کہ سندھ بھر میں نجی سکول بند رہیں گے۔ کراچی میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ نے بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا اور پرچوں کو ری شیڈول کر دیا گیا۔
ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ بم میں ایک جانب بال بیئرنگ استعمال کیے گئے تھے جس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سی آئی ڈی پولیس کے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کے بقول اب تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا ہے کہ بم موٹرسائیکل میں نصب تھا یا زمین پر رکھا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ادھر عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عبدالرحمان پر جمعہ کی صبح لانڈھی کے علاقے میں کریکر سے حملہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم موٹرسائیکل سوار عبدالرحمان کی گاڑی پر کریکر پھینک کر فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق کریکر پھٹنے سے گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا تاہم عبدالرحمان محفوظ رہے جبکہ دو راہگیر معمولی زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ، اے این پی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار اور کارکنوں کو انتخابی مہم کے آغاز سے ہی دہشتگردوں کے حملوں کا سامنا ہے۔
جمعرات کو نارتھ ناظم آباد اور نارتھ کراچی کے سنگم پر واقع نصرت بھٹو کالونی میں ہونے والے دھماکے میں 6 افراد ہلاک ہوئے اور یہ کراچی میں ایک ہفتے کے دوران ایم کیو ایم کے انتخابی دفاتر کو نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ تھا۔
اس سے قبل نارتھ ناظم آباد میں منگل کو ایم کیو ایم کے دفتر کے قریب دھماکے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس واقعے کے بعد ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے تمام انتخابی دفاتر بند کرنے کی ہدایت کی تھی اور ایم کیو ایم کے رہنما قمر منصور کے مطابق تخریب کاری کا نشانہ بننے والا یونٹ آفس بند تھا اور دھماکے کے وقت علاقے کے لوگ وہاں موجود تھے۔







