کراچی:سات تھانوں کی حدود میں نو گو ایریا

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ کراچی شہر کے سات تھانوں کی حدود میں نوگو ایریاز موجود ہیں۔
منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے جمع کرائی جانے والے رپورٹ کے مطابق سات تھانوں کی حدود میں واقع نو گو ایریاز میں سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتون آباد ہیں۔
سماعت کے موقع پر کراچی کے چاکی واڑا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او محمد طفیل نے بیان حلفی جمع کرایا۔ جس کے مطابق ان کے تھانے کے حدور میں جرائم کی سرپرستی سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔
پولیس کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کل تھانوں کی تعداد ایک سو چھ ہے جس میں ننانوے تھانے ایسے ہیں جن کی حدود میں نوگو ایریاز موجود نہیں ہیں۔
عدالت میں ایم کیو ایم کی رہنما نسرین جلیل کا ایک خط بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے طالبان پر الزام عائد کیا کہ وہ کراچی شہر میں بھتہ خوری، بینک ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہے اور شہر میں متوازن عدالتی نظام بھی قائم کر رکھا ہے۔ (ابتدائی خبر میں طالبان کی جگہ سہواً ایم کیو ایم کا نام شائع ہوا اور اب اس غلطی کی تصحیح کر دی گئی ہے۔)

انہوں نے اپنے خط میں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی شہر کا امن بحال کریں۔
اس پر بینچ کے رکن جسٹس اعجاز افضل نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ جو جماعت پانچ سال تک حکومت میں رہی ہے وہ اب عدالت سے کہہ رہی کہ کراچی کا امن بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق سندھ کے نگراں وزیراعلیٰ بھی ایم کیو ایم کی مشاورت سے مقرر ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو کراچی شہر سے نوگو ایریاز ختم کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔
اس پر سندھ پولیس کے سربراہ آئی جی شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ وہ نوگو ایریا ختم کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں تاہم انہوں نے عدالت کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی کہ کتنے عرصے تک نو گو ایریاز ختم کر دیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کی چار تاریخ کو سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے حکومتِ سندھ کو حکم دیا تھا کہ کراچی میں نوگو ایریاز سات روز کے اندر ختم کیے جائیں۔







