
وسط اکتوبر سے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کے ساتھ ہی پشاور اور اس کے مضافات میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پشاور میں انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔
پشاور اور اس کے مضافات میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد خیبر ایجنسی سے ملنے والی سرحد اور شہر میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
متنی اور بڈھ بیر کے علاقے میں پولیس اور فرنٹئر کانسٹبلری کے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور عمران شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ بڈھ بیر یا متنی کے بندو بستی علاقوں میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا صرف حفاظتی انتظامات بہتر کر دیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شدت پسند قبائلی اور نیم قبائلی علاقوں سے آ کر پشاور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں حملے کر کے فرار ہو جاتے ہیں جس پر ان علاقوں میں اقدامات بہتر کیے گئے ہیں۔
عمران شاہد کے مطابق ان بندوبستی علاقوں میں شدت پسندوں کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں اور یہاں جتنے حملے ہوئے ہیں قبائلی علاقوں سے آنے والے شدت پسندوں نے کیے ہیں۔
پشاور میں بڈھ بیر، متنی ، پشتخرہ اور دیگر ایسے علاقے جو خیبر ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہیں وہاں ٹارگٹ کلنگ ، بم دھماکے، راکٹ باری اور بڑی تعداد میں مسلح افراد کے بھاری ہتھیاروں سے حملے شامل ہیں۔
گزشتہ ماہ کی چودہ تاریخ کو پولیس کے مطابق ساٹھ سے اسی مسلح افراد نے غازی آباد چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایس ایس او سمیت پانچ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
خیبر ایجنسی کے حالات اگرچہ کافی عرصہ سے کشیدہ ہیں لیکن وسط اکتوبر سے شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کارروائیوں میں پشاور کے جنوب میں واقع مضافاتی علاقے جیسے بڈھ بیر اور متنی میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے نمایاں ہیں۔ صرف دس دنوں میں پشاور اور اس کے مضافات میں دس بڑے واقعات پیش آئے ہیں۔
دو ہفتوں کے دوران پشاور کے دیگر علاقوں اور نوشہرہ کے قریب مزاروں پر تین حملے ہو چکے ہیں جبکہ ایک مزار کے قریب سے دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنایا گیا ہے۔ ان زیارتوں میں نوشہرہ کے کاکا صحاب کی زیارت پر عید کے دوسرے روز حملہ کیا گیا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور پندرہ سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
پشاور کے شمال میں چمکنی کے قریب ایک زیارت کے قریب رکھا گیا بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا تھا لیکن اسی علاقے میں ایک دوسری زیارت کے قریب رکھے بارودی مواد سے دھماکہ ہوا تھا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ پھندو روڈ پر ایک زیارت کے قریب دھماکے سے دیوار کو نقصان پہنچا تھا۔
خیبر ایجنسی میں باڑہ کے قریبی علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں جہاں سے ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے گزشتہ روز پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔ باڑہ کے قریب برقمبر خیل کے علاقوں میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔






























