
اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان افراد کی ہلاکت میں کون ملوث ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے جدید رہائشی علاقے حیات آباد سے مزید دو بوری بند لاشیں ملی ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ سے پشاور اور اس کے مضافات سے بوری بند لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے بوری بند لاشوں کے ملنے پر نوٹس لے رکھا ہے جس کی سماعت بارہ ستمبر کو ہو گی۔
پولیس کے مطابق دونوں لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے اور دونوں کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ظاہری طور پر لاشوں پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔
پیر کی صبح پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ فیز سات میں ایک بوری میں بند لاش پڑی ہے لیکن جب تک بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار وہاں نہیں پہنچے تب تک لاش کو وہاں سے نہیں اٹھایا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ پایا جاتا تھا کہ بوری میں دھماکہ خیز مواد ہو سکتا تھا اس لیے پہلے بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کیا گیا تھا۔ لاش کی شناخت شیز زمان کے نام سے ہوئی ہے جن کی عمر بیس سے بائیس سال تک بتائی گئی ہے۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو حیات آباد کے فیز سات سے ہی ایک لاش ملی تھی اور لاش کی شناحت اکرام کے نام سے ہوئی تھی اور عمر ستائیس سے اٹھائیس سال تک تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کو چند ماہ پہلے اغوا کیا گیا تھا اور اب لاش ملی ہے۔ اکرام کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی سپیئر پارٹس کی دکان تھی اور پشاور کے علاقے نوتھیہ میں رہائش پذیر تھے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور میں کچھ عرصے سے بوری بند لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اطلاعات کے مطابق اگست کے مہینے میں سولہ افراد کی لاشیں ملی تھیں جس پر پشاور ہائی کورٹ نے نوٹس لیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس روح الامین نے اوپن کورٹ کے دوران اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے ۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ اور پشاور شہر کے پولیس افسر سی سی پی او کو بارہ ستمبر کو عدالت میں طلب کیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ حکام بتائیں کے یہ ماورائے قانون واقعات کیسے ہو رہے ہیں اور متعلقہ حکام اس حوالے سے کیا کر رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض لاشوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ بعض لاشوں پر گولی کے نشان اور بعض لاشیں بغیر کسی تشدد کے نشان کے ملی ہیں۔
اس بارے میں پشاور کے پولیس افسر امتیاز الطاف سے رابطے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان افراد کی ہلاکت میں کون ملوث ہے۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سمیت مختلف مقامات پر فوجی آپیشن جاری ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔






























