
صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں چار مذید افراد کی بوری بند لاشیں ملی ہیں اور اس ماہ پشاور اور اس کے مضافات میں سولہ افراد کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں بوری میں بند کر کے مختلف مقامات پر پھینکی گئی ہیں۔
دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
پولیس کے مطابق دو افراد کی لاشیں چکمنی تھانہ کی حدود سے ملی ہیں جن کی شناخت ہو گئی ہے۔ یہ لاشیں چارسدہ کے رہائشی عمران اور حویلیاں کے رہائشی ایاز کی بتائی گئی ہے۔ دونوں کی عمریں بالترتیب پچیس اور تیس سال ہیں اور ان کے جسم پر کوئی تشدد کے نشان نہیں ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں لاشیں بوری میں بند کرکے ویرانے میں پھینک دی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ کل دو لاشیں متھرا تھانے کی حدود سے ملی تھیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔
پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ لاشوں کی شناخت کے لیے انھیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا گیا ہے۔ دو لاشیں بدھ کو سربند کے علاقے سے بھی ملی تھیں۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس رو ح الامین نے اوپن کورٹ کے دوران اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔
عدالت نے ہیومن رائٹ سیل کی نشاندہی پر اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ اور پشاور شہر کے پولیس افسر سی سی پی او کو اگلے مہینے کی بارہ تاریخ کو عدالت میں طلب کیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ’حکام بتائیں کے یہ ماورائے آئین اور قانون واقعات کیسے ہو رہے ہیں متعلقہ حکام اس حوالے سے کیا کر رہے ہیں۔‘
یہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ پشاور اور اس کے مضافات میں لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس ماہ اب تک سولہ ایسی لاشیں مل چکی ہیں جنھیں بوری میں بند کرکے ویرانوں میں پھینک دیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بعض لاشوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے جبکہ بعض لاشوں پر گولی کے نشان اور بعض لاشیں بغیر کسی تشدد کے نشان کے ملی ہیں۔
اس بارے میں پشاور کے پولیس افسر امتیاز الطاف سے رابطے کی بارہا کوششیں کی گئیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان افراد کی ہلاکت میں کون ملوث ہے۔
خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سمیت مختلف مقامات پر فوجی آپریشن جاری ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔






























