ہری پور: تین لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے شہر ہری پور کے پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ شہر سے بدھ کو ملنے والی تینوں لاشوں کی گردنیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
اب یہ قاتلوں کی طرف سے کسی کے لیے پیغام تھا یا مبینہ طور پر لاپتہ افراد کی موت کا اصل سبب، یہ تفتیش اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
ایس ایس پی محمد علی گنڈا پور نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ تینوں لاشیں بدھ کو مختلف علاقوں سے برآمد ہوئی تھیں جنہیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق مرنے والوں کی شناخت حسن دار، ریاض اور عبدالخانان ولد عبدالباقی کے ناموں سے ہوئی ہے جن کا تعلق بالترتیب صوابی، تخت بائی مردان اور مہمند ایجنسی سے تھا۔
’ان میں صوابی کے حسن دار کے وارثوں کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے لاپتہ تھے اور ان کی بازیابی کے لیے انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائر کی رکھی تھی۔‘
ہری پور کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس طارق خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں ہلاک شدگان میں ایک اور بات یکساں تھی کہ ان کے بازوؤں پر انجکشن کے نشان تھے۔
ایس ایس پی گنڈاپور نے بتایا کہ مرنے والوں میں سے دو کی جیبوں سے ان کی شناختی کارڈ ملے تھے جن سے ان کی شناخت میں مدد ملی جبکہ تیسرے کی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا جس پر اس کا نام اور پتہ درج تھا۔
ہری پور، ایبٹ آباد کے پڑوس میں واقع ہے۔ وہی ایبٹ آباد جہاں بالی بم دھماکوں کا مرکزی ملزم عمر پاٹیک گرفتار ہوا تھا اور بعد میں امریکی کارروائی کے نتیجے میں ایبٹ آباد سے ہی اسامہ بن لادن برآمد ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی حکام کے مطابق بن لادن کی بیواؤں سے ہونے والی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلا کہ بن لادن ایبٹ آباد سے پہلے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہری پور میں کرائے کے ایک مکان میں رہتے رہے تھے۔
ایس ایس پی گنڈاپور کے بقول ہری پور میں ماضی میں بھی لاشیں تو ملتی رہی ہیں لیکن وہ عموماً پرانی دشمنی یا دوسری وجوہات کی وجہ سے ہلاک ہونے والے مقامی لوگوں کی ہوتی تھیں، یہ تینوں مقامی لوگ نہیں تھے۔
پولیس افسران کا کہنا ہے کہ فوری طور پر قتل کے محرکات تو معلوم نہیں ہوسکے ہیں لیکن حسن دار کے ورثاء نے پولیس اور خفیہ ایجنسیوں پر شک کا اظہار کیا ہے۔
پولیس نے ریاست کی جانب سے تینوں افراد کے قتل کے تین الگ الگ مقدمات نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیے ہیں۔







