
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق امن لشکر کے رضا کاروں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں پانچ رضا کار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔
یہ جھڑپیں تحصیل باڑہ کے علاقے اکا خیل میں ہوئی ہیں جہاں کچھ عرصہ سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بی بی کو بتایا کہ لشکر اسلام نامی تنظیم سے وابستہ شدت پسندوں نے شین درنگ میں حکومت کی حمایتی امن لشکر کی دو چوکیوں پر حملہ کیا جس کے بعد امن لشکر کے رضا کاروں نے جوابی کارروائی کی۔
شدت پسندوں کے حملے میں پانچ رضا کار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جوابی کارروائی میں سات شدت بھی پسند ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
انتظامی افسران کے مطابق چونکہ یہ واقعہ رات کو وقت پیش آیا اور عام طور پر شدت پسند اپنے کارکنوں کی لاشیں ساتھ لے جاتے ہیں اس لیے یہ علم نہیں ہو سکا کہ ان کا کتنا نقصان ہوا۔
تحصیل باڑہ میں گزشتہ سال فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس کے لیے باڑہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں سے نقل مکانی کا کہہ دیا گیا تھا۔
اس وقت تحصیل باڑہ کے ہزاروں خاندان یا تو جلوذئی کیمپ میں رہائش پزیر ہیں، کچھ پشاور اور دیگر علاقوں میں رشتہ داروں کے پاس مقیم ہیں اور یا اپنے طور پر مکان کرائے پر حاصل کر کے رہ رہے ہیں۔
خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں کچھ عرصہ سے شدت پسند تنظیمیں بھی متحرک ہیں جن سے مقابلے کے لیے حکومت کی ایما پر امن لشکر بنائے گئے تھے۔






























