خیبر ایجنسی:آٹھ اہلکاروں سمیت دس ہلاک

خیبر ایجنسی فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے افراد کا تعلق زخہ خیل قبیلے سے بتایا جاتا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں دو علیحدہ علیحدہ واقعات میں سیکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں خیبر ایجنسی میں ہی آج ایک سرکاری سکول کو بھی دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سپاہ کے مقام پر الحاج مارکیٹ کے سامنے جب سیکیورٹی فورسز کا قافلہ گزر رہا تھا تو اس وقت ایک زور دار دھماکہ ہوا ہے۔

اہلکاروں نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے نصب کر رکھا تھا جس سے سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

آج صبح سویرے حکام کے مطابق باڑہ میں شین قمبر کے مقام پر طالبان مخالف لشکر کے افراد پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے افراد پک آپ گاڑی میں جا رہے تھے کہ ان پر سڑک کے کنارے پہلے سے نصب ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔

حملے میں امن کمیٹی کے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ دھماکے میں گاڑی بھی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔ مرنے والے افراد کا تعلق زخہ خیل قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔

اسی طرح تحصیل باڑہ میں اکا خیل کے مقام پر ایک سرکاری سکول کو بھی دھماکے سے آڑایا گیا ہے لیکن اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں اب تک پچہتر سے زیادہ سکول تباہ کیے گئے ہیں۔

یاد رہے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بیشتر علاقے خالی کرائے گئے تھے اور اب تک اطلاعات کے مطابق ان علاقوں سے ڈھائی لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں جن میں سے بیشتر پشاور کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ حکام کے مطابق صرف دس سے پندرہ فیصد افراد ہی جلو زئی کیمپ میں رہ رہے ہیں۔