خیبر ایجنسی: جھڑپوں میں دس شدت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور طالبان شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں میں دس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
دریں اثناء ایک اور قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجووں کے امن کمیٹی کے ایک مرکز پر حملے میں ایک رضا کار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔
خیبر ایجنسی میں ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان کو بتایا کہ پیر کو علی الصبح خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاقے شلوبر میں مُسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی تین چیک پوسٹوں پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
اہلکار کے مطابق حملے کے نتیجے میں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ چیک پوسٹوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں شدت پسندوں کے تین مراکز کو نشانہ بنایا جس میں دس شدت پسندوں کے ہلاکت کی اطلاع ملی ہے اور ٹھکانے بھی مکمل طور تباہ ہوگئے ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ شلوبر کے علاقے سے عام شہری عارضی کیمپوں میں منتقل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو اب یہ خطرہ نہیں کہ کارروائی کے دوران عام شہریوں کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے بتایا کہ شلوبر کے محتلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جس میں فوج، ایف سی اور سکاؤٹس فورسز کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
اہلکار کے مطابق سکیورٹی فورسز کو توپخانے کے علاوہ ٹینکوں کی مدد بھی حاصل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امن کمیٹی کے مرکز پر حملہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں طالبان شدت پسندوں کے امن کمیٹی کے ایک مرکز پر حملے میں ایک رضکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق تحصیل خویزئی کے علاقے خرھشاہ میں مُسلح شدت پسندوں نے اس وقت حملہ کیاجب امن کیمٹی کے ایک درجن سے زیادہ رضا کار مرکز میں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد مرکز میں آگ لگ گئی جس سے مرکز مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔
اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔
تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں سات رضاکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ خیبر اور مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ تین سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
ان کارروائیوں میں دو بار سکیورٹی فوسرز نے علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے اعلان بھی کیا تھا لیکن ابھی تک کسی بھی علاقے سے شدت پسندوں کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوا ہے۔







