
خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن جاری ہے جس کی وجہ سے لوگ نقلِ مکانی کر رہے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں حکومت کی ایک حمایتی تنظیم کے رضا کار شامل ہیں۔
پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ آدھی رات کے وقت تحصیل باڑہ میں اکا خیل مدا خیل میں ایک مکان پر مارٹر گولا آن گرا جس سے ایک خاتون اور دو بچے ہلاک، جب کہ چار افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ گولا کسی نامعلوم مقام سے فائر کیا گیا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ اس مکان کو کیوں نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ مکان ایک مقامی شخص سید کریم کا ہے جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق باڑہ اور خیبر ایجنسی کے دیگر علاقوں میں متحارب تنظیموں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں اکثر بے گناہ افراد کے مکان زد میں آجاتے ہیں جس سے معصوم بچے اور خواتین ہلاک ہوتے ہیں۔
چند روز پہلے بھی خیبر ایجنسی میں ہی ایک مکان پر مارٹر گولا گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے جس پر مقامی لوگوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔
تحصیل باڑہ کے مختلف مقامات پر فوجی آپریشن بھی جاری ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر کے نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ اور پشاور میں کرائے کے مکان لے کر رہ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور واقعے میں خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے قریب زخہ خیل کے علاقے میں بکاڑ کے مقام پر سڑک کے کنارے ایک گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے میں حکومت کی حمایتی تنظیم توحید الاسلام کے رضا کاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک اور تین افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ آئی ای ڈی یا خود ساختہ بم سے کیا گیا ہے جس میں چار رضا کار ہلاک ہوئے ہیں۔
مقامی لوگوں کے دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔






























