
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن لشکر کے رضاکاروں پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایک رضا کار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔
پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ دھماکہ پیر کی صبح لنڈی کوتل تحصیل کے علاقے بازار زخہ خیل میں کاٹہ کانڑی کے مقام پر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی حامی لشکر کے رضا کار کنویں سے پانی بھر رہے تھے کہ وہاں پہلے سے نصب ریموٹ بم کا ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہ دھماکے میں ایک رضا کار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد دو بتائی ہے۔
خیال رہے کہ لنڈی کوتل تحصیل میں پچھلے ایک سال سے شدت پسند تنظیم لشکر اسلام اور زخہ خیل امن لشکر کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔
خیبر ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصہ سے امن و امان صورتحال انتہائی خراب بتائی جاتی ہے۔ ایجنسی کے مختلف مقامات پر شدت پسند تنظیموں یا امن لشکر کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔
اس کشیدگی کی وجہ سے باڑہ اور لنڈی کوتل کے تحصیلوں سے لاکھوں افراد نے بے گھر ہوکر پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔






























