قبائلی علاقوں کو عدم توجہی کی شکایت

،تصویر کا ذریعہ
’اگر قبائلی علاقوں سے غیرمقامی عناصر نکل جائیں تو شدت پسندی کا مقابلہ ہم قبائلی خود کر لیں گے۔ ہم وہ امن لائیں گے جو آج سے دس برس قبل تک وہاں کا خاصہ تھا۔‘ یہ بات کی قبائلی علاقے سے رکن قومی اسمبلی حمید اللہ جان نے اسلام آباد میں فاٹا ریسرچ سینٹر نامی تھنک ٹینک کے ایک مقامی ہوٹل میں اس حساس خطے سے متعلق نئی تحقیق کے نتائج جاری کرنے کے موقع پر کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی بدنصیبی یہ رہی کہ ان سے متعلق فیصلہ سازی میں انہیں کبھی اعتماد میں تو کیا مشاورت میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ ’بیرونی عناصر نے اس خطے میں فیصلے اپنی خواہشات اور مقاصد کو مدنظر رکھ کر کیے۔‘
قبائلی علاقوں میں حالات معمول پر کیوں نہیں آ رہے اس کی چھوٹی سے مثال ایک تقریب میں دیکھنے کو ملی۔ شرکاء کو رپوٹ کی بنیاد پر پُرمغز بحث کی دعوت دی جا رہی تھی لیکن حکمراں پیپلز پارٹی کے قبائلی علاقوں سے واحد رکن اخوندزادہ چٹان بےوجہ محفل سے ناراض ہوکر چلے گئے۔
بات ہو رہی تھی قبائلی علاقوں کی محرومیوں کی، وہاں کی شکایتوں کی لیکن حکمراں جماعت کے باجوڑ سے واحد منتخب رکن کو شکایت یہ تھی کہ انہیں سٹیج پر نہیں بٹھایا گیا، نہ دعوت دی گئی۔ حالانکہ شرکاء کے سوالات کے آغاز پر مائیک انہیں سب سے پہلے بولنے کے لیے دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ تمام دن ان سے ٹیلیفون کے ذریعے رابطے کی کوششیں کی گئیں لیکن فون تمام دن بند تھا۔ وہ اپنی شکایت ریکارڈ کروا کر لڑنےمرنے کے انداز میں اٹھے اور منتظمین کا مؤقف سنے بغیر چل دیے۔
اسلام آباد میں قائم قبائلی علاقوں سے متعلق تحقیق کرنے والے ادارے فاٹا ریسرچ سنٹر نے قبائلی علاقوں اور فرنٹیر ریجن میں دو سو افراد کے تفصیلی انٹرویو کے نتائج کے مطابق ترپن فیصد قبائلی علاقے میں فوج کے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کی حمایت بھی سامنے آئی ہے۔ تحقیق کے مطابق بےروزگاری اس خطے میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کی جانب نوجوانوں کے راغب ہونے کی بڑی وجہ ہے۔
عمران خان کی تحریک انصاف میں حالیہ دنوں میں شمولیت اختیار کرنے والے سیاستدان ہاشم بابر نے اس موقع پر قبائلی علاقوں کے خاص مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں اصلاحات پر زور دیا۔
سابق سفارت کار اور تجزیہ نگار ایاز وزیر نے کہا کہ قبائلی علاقوں پر براہ راست حکمرانی کرنے والے صدر آصف علی زرداری نے چار سال میں ایک مرتبہ بھی ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نسلی تفریق افریقہ میں شاید ختم ہوئی لیکن قبائلی علاقوں میں آج بھی جاری ہے۔
ایف آر سی کے صدر ڈاکٹر اشرف علی نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں درپیش چیلنجوں کو ترقی کے مواقعوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا موقف تھا کہ قبائلی علاقے اپنے وسائل کی وجہ سے آج بھی ایک تابناک مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







