امن لشکر کی گاڑی پر حملہ، دو ہلاک

،تصویر کا ذریعہbbc

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف امن لشکر کے سربراہ کی گاڑی پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں کمیونٹی پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

حملے کے وقت لشکر کے سربراہ گاڑی میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کو پشاور کے مضافاتی علاقے بازید خیل چوک میں پیش آیا۔

ایس پی رورل شفیع اللہ خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ بازید خیل امن لشکر کے سربراہ فھیم خان کی گاڑی جاری رہی تھی کہ رینگ روڈ کے قریب سڑک کے کنارے کھڑے ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے گاڑی کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں کمیونٹی پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تاہم لشکر کے سربراہ گاڑی میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔ دھماکے میں گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہپستال پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق قبائلی علاقے درہ آدم خیل اور باڑہ کے سرحد پر واقع پشاور کے مضافاتی علاقے بازید خیل اور متنی میں گزشتہ کچھ عرصہ سے امن لشکر اور شدت پسند تنظیموں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ادھر پشاور سے ملحق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی حکومتی حامی امن لشکروں اور عسکری تنظیموں کے درمیان کچھ دنوں سے جھڑپوں میں شدت آئی ہے جس کی وجہ سے کئی علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ کے علاقوں دوا تویہ اور تحصیل جمرود میں کالعدم تنظیموں لشکر اسلام، تحریک طالبان پاکستان اور قبائل پر مشتمل حکومتی حامی امن لشکروں کے مابین کئی ہفتوں سے جاری جھڑپوں میں تیزی آئی ہے جبکہ اس دوران دونوں جانب سے کئی افراد مارے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان جھڑپوں کی وجہ سے وادی تیراہ کے کچھ علاقوں سے لوگ نے نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔

ان کے مطابق علاقے میں ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاؤان کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے جبکہ زیادہ تر واقعات میں اغواء ہونے والے افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں بھی سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے بے گھر ہوکر جلوزئی مہاجر کمیپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے پانچ چھ سالوں کے دوران پہلی مرتبہ خیبر ایجنسی میں انتہائی سخت کشیدگی دیکھی جارہی ہے۔