خیبر ایجنسی میں دھماکہ، دو افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف لشکر کے افراد پر ہونے والے ایک بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح باڑہ سب ڈویژن کے علاقے شین قبر میں پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان مخالف امن کمیٹی کے افراد پک آپ گاڑی میں جارہے تھے جب سڑک کے کنارے پہلے سے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں امن کمیٹی کے دو افراد ہلاک ہوگئے۔
دھماکے میں گاڑی بھی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق زخہ خیل قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں پچھلے چند مہنیوں سے امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہوچکی ہے۔ وادی تیراہ کے علاقے میں حکومتی امن لشکروں اور شدت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ کئی مہینوں سے جاری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ باڑہ سب ڈویژن کے چند علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ دو کالعدم تنظموں تحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام کے جنگجو بھی ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ سے حکومتی حامی افراد پر شدت پسندوں کی طرف سے حملوں میں تیزی آرہی ہے۔ گزشتہ روز پشاور میں بھی بازید خیل امن لشکر کے سربراہ فہیم خان کی تین ساتھیوں سمیت لاشیں ملی تھیں۔ اس قتل کی ذمہ داری تحریک طالبان اور لشکر اسلام دونوں نے قبول کرلی ہے۔



