امن لشکر کا حکومت سے تعاون ختم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور کے مضافات میں ادیزئی کے مقامی مشتبہ طالبان کے خلاف مقامی لوگوں پر مشتمل امن لشکر نے پانچ سال کے بعد اب حکومت سے تعاون ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ادیزئی امن لشکر کے سربراہ دلاور خان کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور حکومت نے جو پولیس اہلکار لشکر کی مدد کے لیے فراہم کیے تھے وہ واپس لے لیے گئے ہیں تو ایسی صورتحال میں وہ حکومت سے تعاون کیسے کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اسلحے اور دیگر وسائل کی کمی ہے جس کے بارے میں انہوں نے بار بار حکومت سے مطالبہ کیا لیکن ان کی کوئی بات نہیں سنی گئی۔
ادیزئی پشاور سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور جنوب میں انڈس ہائی وے پر خیبر ایجنسی کے علاقے درہ آدم خیل کے ساتھ واقع ہے۔
ادیزئی امن لشکر سن دو ہزار آٹھ میں قائم کیا گیا تھا اور بقول دلاور خان کے اس وقت اس علاقے میں طالبان کا راج تھا اور اس علاقے میں طالبان نے اپنی عدالتیں قائم کر رکھی تھیں۔
خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں حکام نے مقامی افراد پر مشتمل امن لشکر قائم کیے تھے جن کا مقصد طالبان کو ان علاقوں سے نکالنا یا ان کا خاتمہ کرنا تھا۔
پاکستان میں شدت پسندی کے حوالے سے تحقیق کرنے والے باچا خان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سربراہ پروفیسر خادم حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض علاقوں میں امن لشکر یا امن کمیٹیاں پختون معاشرے کے اندر موجود روایات کے تحت قائم ہوئے جو کامیاب رہے ہیں اور اس طرح کے امن لشکروں یا کمیٹیوں کو کسی قسم کی حکومتی امداد کی ضرورت نہیں رہی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو امن لشکر یا امن کمیٹیاں ایجنسیوں کے توسط سے یا مصنوعی طور پر قائم کرنے کی کوشش کی گئی وہ یا تو ناکام رہے یا وہ کمیٹیاں اور لشکر خود حکام کے لیے درد سر بن گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادیزئی امن لشکر کے سربراہ دلاور خان کا کہنا ہے کہ ان کا لشکر بنیادی طور پر پشاور شہر کے لیے ڈھال کا کام دے رہا ہے کیونکہ قبائلی علاقوں سے آنے والے شدت پسندوں کا پہلے سامنا ادیزئی میں ان کے لشکر کے افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک پانچ سالوں میں طالبان کے ساتھ جھڑپوں یا مختلف حملوں میں ان کے لشکر کے ایک سو پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد معذور ہو گئے ہیں۔ ادیزئی میں اب تک دو خود کش حملے ہوئے ہیں جبکہ دو خود کش حملہ آوروں کو انہوں نے ہلاک کر دیا تھا۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جب یہ امن لشکر قائم کیے گئے تو انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اداروں نے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت اور سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے عوام کو مسلح افراد کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار کرنا ظلم ہے۔







