پشاور: فرار کی کوشش ناکام، تین قیدی ہلاک

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے شہر پشاور میں حکام کے مطابق چھاؤنی کے علاقے میں فرار ہونے کی کوشش کرنے والے شدت پسند قیدیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار اور تین شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ پشاور چھاؤنی میں پیر کو رات گئے پیش آیا اور سرکاری حکام کے مطابق زیر حراست شدت پسند قیدیوں نے ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی۔
اس فائرنگ کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے جس کے بعد احاطے میں موجود دیگر اہلکاروں نے قیدیوں پر جوابی فائرنگ کی جس سے تین شدت پسند قیدی بھی مارےگئے۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ قیدی کون تھے اور پشاور چھاؤنی میں کس مقام پر انھیں قید کیا گیا تھا۔ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ شدت پسند ایک خفیہ ایجنسی کے تحویل میں تھے جہاں سے انھوں نے فرار ہونے کی کوشش کی۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کُل کتنے قیدی اس عمارت میں قید تھے تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ چند قیدی فرار ہونے میں بھی کامیاب ہو ئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس واقعہ کے بعد رات سے پشاور چھاؤنی اور یونیورسٹی روڈ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے اور تمام شاہراہوں پر فوجی بھاری اسلحے کے ساتھ تعینات کر دیے گئے تھے۔
ابتدا میں یہ تاثر دیا گیا کہ شائد کو ئی اہم شخصیت اس مقام سے گزر رہی ہے لیکن بعض مقامات سے فائرنگ کی آوازوں کے بعد معلوم ہوا کہ چھاؤنی کے ایک خفیہ مقام پر شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔
پشاور چھاونی کے ان علاقوں میں پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نومبر دو ہزار نو میں نا معلوم افراد نے آئی ایس آئی کی عمارت کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی جس میں ایک اطلاع کے مطابق بیس کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیرِ حراست شدت پسند قیدی بھی شامل تھے۔
اسی طرح اس علاقے کے قریب واقع امریکی قونصل خانے پر بھی حملہ ہو چکا ہے۔







