
خیبر ایجنسی کی جانب سے پشاور کے مضافاتی علاقوں میں پولیس اور فرنٹئر فورس کے جوانوں پر گزشتہ کچھ عرصے سے حملوں میں شدت آ ئی ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کےلیے علاقے میں فوج کے ریگولر دستوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح سے باڑہ سب ڈویژن کے علاقوں برقمبر خیل اور سپاہ میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کئی علاقوں کا محاصرہ جاری ہے اور اس دوران کئی مشکوک افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ کل سے باڑہ کے تمام اہم راستے بند ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سپاہ کے علاقے سے تین مشتبہ شدت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں جو گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران مارے گئے تھے۔
تاہم سرکاری طورپر اس اطلاع کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باڑہ سب ڈویژن کی حدود میں فوج کے ریگولر دستوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل سے فوجی اہلکار بڑی تعداد میں ٹینکوں کے ہمراہ باڑہ سب ڈویژن میں داخل ہوئے ہیں۔
اس سے پہلے باڑہ اور خیبر ایجنسی کے دیگر علاقوں میں بیشتر کارروائیوں میں فرنٹیر کور کے اہلکار حصہ لیتے رہے ہیں جبکہ فوج کے ریگولر دستوں کو کم ہی استعمال کیا گیا ہے۔
تاہم اس سلسلے میں فوج اور فرنٹیر کور کا موقف معلوم کرنے کے لیے ان کے ترجمان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہیں ہو سکی۔
خیال رہے کہ پیر کو باڑہ کے علاقے نالہ ملک دین خیل میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں دس شدت پسند اور دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
اس کارروائی میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا تھا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پشاور شہر سے ملحق قبائلی علاقے باڑہ کے سرحدی مقامات سے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے جس میں اب تک متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
چند دن قبل پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں واقع غازی آباد پولیس چوکی پر عسکریت پسندوں کی طرف سے بڑا حملہ کیا گیا تھا جس میں ایس پی رورل خورشید خان سمیت پولیس اور ایف سی کے چھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے قبول کی تھی۔






























