
شدت پسندوں نے چوکی کو آگ لگا دی
صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں میں رات گئے مشتبہ طالبان کے حملے میں سینیئر پولیس افسر اور ایک انسپکٹرسمیت پانچ پولیس اہلکار ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق رات کے وقت مشتبہ طالبان نے کوہاٹ روڈ پر متنی میں غازی آباد پر بھاری اسلحے سے حملہ کیا۔ اس حملے کے جواب میں موقع پر موجود پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکاروں نے ان کے پاس موجود اسلحے سے جوابی کارروائی کی۔
اس واقعہ کی اطلاع سپرنٹنڈنٹ پولیس خورشید خان کی دی تو وہ مذید نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ کوئی ایک گھنٹے تک جاری رہا۔
"خورشید خان کو ایک ماہ پہلے ہی متنی اور بڈھ بیر کے علاقے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس رورل کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ انھیں یہاں تعیناتی کے لیے وقت سے پہلے ڈی ایس پی سے ایس پی رورل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی ۔ اس سے پہلے اس تھانے یعنی بڈھ بیر کے علاقے میں تعینات سپرنٹنڈنٹ پولیس عبدالکلام ایک خودکش دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی تھانے کے ڈی ایس پی رشید خان کو بھی کوہاٹ روڈ پر ہلاک کیا گیا تھا۔ "
عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پولیس کے مطابق اس جھڑپ میں ایس پی رورل خورشید خان سمیت پانچ اہلکار ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا ہے جہاں دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ شدت پسندوں نے چوکی کو آگ لگا دی۔
متنی کا یہ علاقہ خئبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ اس علاقے میں مقامی افراد پر مشتمل ایک امن لشکر قائم کیا گیا تھا ۔ اس لشکر کے سربراہ دلاور خان نے چند ماہ پہلے حکومت کے عدم تعوان کی وجہ سے امن لشکر ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
کل یعنی اتوار کے صبح اسی علاقے میں شدت پسندوں نے فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا جس پر ایف سی جوابی کارروائی کی تھی۔
اس جھڑپ میں ایک اہلکار ہلاک اور چار شدت پسندوں کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔






























