
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے متنی بازار میں ایک گاڑی کے قریب دھماکے سے گیارہ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکہ مغرب کی نماز سے تھوڑی دیر پہلے ایک مسجد کے قریب ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کے قریب ایک ڈبل سیٹر گاڑی کھڑی تھی جس میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا اب تک علم نہیں ہو سکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے واقعے کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔
زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جہاں تین کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا ہے اس کے قریب ایک بڑی مارکیٹ ہے لیکن جمعے کی وجہ سے مارکیٹ بند تھی ورنہ نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
متنی میں اس سے پہلے بھی متعدد دھماکے اور تشدد کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس سال مارچ میں متنی میں ایک جنازے کے دوران دھماکے میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ دھماکہ امن لشکر کے ایک عہدیدار کے جنازے میں کیا گیا تھا۔
متنی بازار پشاور شہر سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور جنوب میں نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل کے قریب واقع ہے۔ متنی بازار کا علاقے مصروف شاہراہ ہے جہاں مقامی لوگوں کے علاوہ پشاور سے صوبے کے جنوبی علاقوں کو جانے والی بیشتر مسافر گاڑیاں بھی یہی راستہ استعمال کرتی ہیں۔
متنی میں حکومت کی حمایت سے امن لشکر قائم کیا گیا تھا لیکن گزشتہ ماہ لشکر کے سربراہ دلاور خان کے مطابق حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے مقامی لشکر ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔






























