خیبر:’دھماکے میں بیس شدت پسند ہلاک‘

دھماکے کے وقت مرکز میں لشکر اسلام کے جنگجو بڑی تعداد موجود تھے: سرکاری اہلکار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندھماکے کے وقت مرکز میں لشکر اسلام کے جنگجو بڑی تعداد موجود تھے: سرکاری اہلکار

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی شدت پسند تنظیم لشکر اسلام کے مرکز پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں بیس کے قریب افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ جمعہ کو وادی تیراہ کے دور افتادہ پہاڑی علاقے نحقی میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے علاقے میں واقع لشکر اسلام کے مرکز میں داخل ہوکر وہاں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ دھماکے میں کم سے کم بیس شدت پسند ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ اہلکار کے مطابق دھماکے کے وقت مرکز میں لشکر اسلام کے جنگجو بڑی تعداد موجود تھے۔

تاہم لشکر اسلام کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو فون کر کے اس حملے میں اپنے چھ ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تحریک کے ترجمان محمد نے بی بی سی کو فون کرکے کہا کہ دو ماہ قبل باڑہ میں ان کے گیارہ ساتھی لشکر اسلام کے ہاتھوں مارے گئے تھے اور یہ آج کا حملہ اس کا ردعمل ہے۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں کچھ عرصہ سے دونوں کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور لشکر اسلام کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک دونوں جانب سے کئی جنگجو مارے گئے ہیں۔