پشاور: چارسدہ روڈ پر دھماکہ، اٹھارہ ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں چارسدہ روڈ پر ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق مرنے والوں میں نو خواتین، آٹھ مرد اور ایک بچی بھی شامل ہے۔
مقامی تھانہ داؤد زئی کے ایک پولیس افسر میرا جان نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ دھماکے میں ایک سرکاری بس کو نشانہ بنایا گیا۔
پولیس افسر کے مطابق یہ بس سول سیکرٹیریٹ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو پشاور سے چارسدہ لے جا رہی تھی کہ ناگمان کے علاقےگل بیلہ کے مقام پر بم دھماکے کا نشانہ بنی۔
<link type="page"><caption> پشاور میں دھماکہ، تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/06/120608_peshawar_blast_pics_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
انہوں نے کہا کہ دھماکے سے بس کو شدید نقصان پہنچا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نامعلوم افراد نے بس میں پہلے سے بم نصب کیا تھا اور بم چلتی بس میں اچانک ایک زور دار سے پھٹ گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والی خواتین میں کچھ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی نرسیں بتائی جاتی ہیں جو چارسدہ جانے کے لیے اس بس میں سوار تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ سول سیکرٹیریٹ کے ملازمین میں کم عہدے کے لوگ سوار تھے اور ہلاک ہونے والوں میں کوئی افسر شامل نہیں ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بم بس کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔’ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں کتنے سرکاری ملازمین تھے اور کتنے عام شہری تھے۔‘
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک اس دھماکے میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
لاشوں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پشاور کے مختلف علاقوں میں سرکاری گاڑیوں کے علاوہ سکول گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں عام شہری اور بچے ہلاک ہوئے تھے۔







