ٹی ٹی پی سے مذاکرات: ’افغان طالبان سے زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی‘

ٹی ٹی پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، شمالی وزیرستان

پاکستانی فوج کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق اس وقت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے لیے صرف سفارتی سطح پر افغان حکومت سے بات چیت کی جا رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان طالبان کی حکومت سے اس بارے میں زیادہ حمایت کی توقع نہیں ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر افغان سرحد کے قریب تعینات ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ہمیں زیادہ امید نہیں ہے کیونکہ ٹی ٹی پی کے لوگ 20 سال تک افغان طالبان کے ہمراہ افغانستان میں جنگ کا حصہ رہے ہیں، اس لیے وہ ایک دوسرے کے ساتھی رہے ہیں۔ ایک حد تک تعاون تو ممکن ہے مگر زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

گذشتہ برس افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد پاکستان کے متعدد حلقوں کی جانب سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اب افغانستان سے پاکستان میں حملوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اگست 2022 کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان حکومت نے گذشتہ برس کے اواخر میں اعلان کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور ہتھیار پھینکنے کی صورت میں ان کے بیشتر شدت پسندوں کو قومی دھارے کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس سلسلے میں افغان طالبان نے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین میں جنگ بندی کا معاہدہ بھی طے کرایا تاہم دونوں جانب سے کہا گیا کہ مذاکرات کا سلسلہ بغیر کسی نتیجے کے ٹوٹ چکا ہے جس کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ بھی ختم ہو گیا۔

قبائلی مشران کی ٹی ٹی پی سے ملاقاتیں: ’حکومت کا کوئی تعلق نہیں‘

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

البتہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان کے سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے قبائل کے مشیران کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ان تصاویر سے متعلق جب فوجی حکام سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ ایسی ملاقاتیں روزمرہ کا معمول ہیں جن کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔‘

'یہاں مقامی قبائل کے جرگے، مشران اور ملک آئے روز افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کے لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی نچلی سطح کے یہ جنگجو مقامی قبائل کا حصہ ہیں اور ان کے خاندان ڈیورنڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کی سرحد) کے دونوں جانب موجود ہیں۔

دونوں طرف کی روایات کے مطابق ان خاندانوں کے کئی مسائل کے حل کے لیے جرگے کیے جاتے ہیں اور مشران ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ مگر ان تمام ملاقاتوں کا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں جو حکومت پاکستان کی سطح پر ٹی ٹی پی سے شروع کیے گئے تھے۔'

دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہی ہیں جن میں پاکستان کی جانب سے سرحد پر سکیورٹی کے لیے نصب خار دار باڑ کو افغان طالبان اہلکار اکھاڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ان ویڈیوز کے علاوہ افغان طالبان کی جانب سے ایسے بیانات بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ وہ اس سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے۔

افغان دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ان واقعات کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان حکومت مسائل کے حل کے لیے افہام و تفہیم، بات چیت اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات پر یقین رکھتی ہے، اور ان مسائل کو 'سفارتی طور' پر حل کیا جائے گا۔

پاکستان کی جانب سے مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی بیان دیا تھا کہ افواہوں، غلط فہمیوں اور سپائلرز کا سدِ باب کرنے کے لیے مقامی طور پر پیش آنے والے اِکا دُکا واقعات کو بردباری اور مکمل احتیاط سے حل کرنا ہے۔'

گذشتہ چند ماہ کے دوران افغان طالبان کے اہلکاروں کی جانب سے سرحد پار سے فائرنگ ، اور ٹی ٹی پی کی طرف سے پاکستان کے شہری علاقوں میں بڑے حملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ افغان طالبان کے بعض رہنماؤں کی جانب سے پاکستان مخالف بیانات بھی سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیے

سرحدی دراندازی: ’جواب ملتا ہے ان افراد پر کنٹرول نہیں‘

طالبان حکومت کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی
،تصویر کا کیپشنطالبان حکومت کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی (فائل فوٹو)

پاکستانی فوج کے سینیئر اہلکار نے انہی واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سرحد پر اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، 'تو ہم فوری طور پر کابل میں طالبان حکومت سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ آپ کے لوگوں نے یہ کارروائی کی ہے لہذا انہیں روکیں۔

لیکن ہمیں یہ جواب دیا جاتا ہے کہ ان کا فی الحال ان افراد پر کنٹرول نہیں ہے یا وہ ابھی انہیں انگیج نہیں کر سکتے۔'

دوسری جانب ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کی صورت میں پاکستان کو خطرے کا سامنا ہے اور 'فوج انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر مسلسل ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔'

’ٹی ٹی پی کے پاس امریکی افواج کے آلات موجود ہیں‘

لیکن باڑ کی تنصیب کا کام تقریباً مکمل ہونے کے باوجود پاکستان کو ٹی ٹی پی سے خطرہ کیوں ہے؟

باڑ کی تنصیب

،تصویر کا ذریعہAFP

اس سوال پر فوج کے سینئیر اہلکار نے بتایا کہ 'امریکی اور نیٹو فورسز جانے سے قبل ایسے کٹرز بھی چھوڑ گئے ہیں جنھیں تحریک طالبان کے دہشتگرد سرحدی باڑ کاٹنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ان کے پاس اب امریکی افواج کے رات کی تاریکی میں استعمال کیے جانے والے آلات بھی موجود ہیں جن کی مدد سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام سے ہی ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ میں ہمیں مدد مل سکتی ہے۔

فوجی حکام کے مطابق باڑ کی تنصیب سے 'دہشتگردوں کی دراندازی میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔'

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں 219 کلومیٹر طویل باڑ پر 69 قلعے بھی تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ بعض حساس مقامات، جیسا کہ انگور اڈہ، پر پاکستان نے بارودی سرنگیں بھی نصب کر رکھی ہیں تاکہ شدت پسندوں کے داخلے کو روکا جا سکے۔

اس انتہائی دشوار گزار علاقے، جہاں باڑ کی تنصیب کو ناممکن تصور کیا جا رہا تھا، میں فینسنگ کا کام فروری سنہ 2017 میں شروع کیا گیا تھا۔

’ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں کارروائی نہیں ہو گی‘

ٹی ٹی پی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

اس سوال پر کہ کیا افغان طالبان کا تعاون نہ ہونے کی صورت میں پاکستان ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کے خلاف افغانستان میں کارروائی کا فیصلہ کر سکتا ہے؟ فوجی اہلکار نے کہا کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا۔

'ہم افغانستان کی خود مختاری کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ٹی ٹی پی کے نچلے درجے کے لوگوں کو واپس قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اور اس کے لیے بات چیت کا راستہ ہی ہے۔ لیکن افغانستان میں کارروائی نہیں کی جائے گی۔'

ہم نے یہ ضرور کیا ہے کہ اب ہماری مغربی سرحد پر ایک بہت بڑی تعداد میں فوجی دستے تعینات ہیں جبکہ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر حملے روکے جا رہے ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کر رہے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

حال ہی میں بعض افغان رہنماؤں کی طرف سے کہا گیا کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم سینیئر فوجی اہلکار نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کی موجودہ حکومت نے ایسا کبھی نہیں کہا۔

’یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔ افغان طالبان نے یہ مطالبہ ضرور کیا ہے کہ باڑ لگنے سے تقسیم ہونے والے دیہاتوں اور قبائل کی آمدورفت سے متعلق مستقل بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔ ہم اس سلسلے میں بہت سے آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور جلد ہی اس مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔'

واضح رہے کہ ڈیورنڈ لائن پر 23 ایسے دیہات اور قبائل موجود ہیں جو سرحد کی دونوں جانب تقسیم ہیں۔ افغانستان کا موقف رہا ہے کہ سرحد پر بٹے یہ خاندان باڑ لگنے سے متاثر ہو رہے ہیں تاہم پاکستانی فوج کا دعویٰ ہے کہ باڑ کی تنصیب میں، شدت پسندی سے تنگ، ان قبائل کی حمایت بھی شامل ہے۔