افغانستان سے پاکستانی شدت پسندوں کے اہلخانہ کی واپسی کس پالیسی کے تحت ہو رہی ہے؟

افغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’کراچی میں ہمارے قیام کو چھ ماہ ہوئے تھے جب ایک پیغام رساں میرے والد کا پہلا پیغام لے کر ہم تک پہنچا‘
    • مصنف, افتخار فردوس
    • عہدہ, صحافی

یہ سنہ 2009 کی بات ہے جب میری عمر بارہ برس تھی۔ سوات میں واقع ہمارے گاؤں میں ایک روز پہلے ہی کرفیو نافذ ہوا تھا اور پوری رات شدید فائرنگ کی آوازیں آتی رہی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب میرے والد دیگر ٹی ٹی پی کارکنوں کے ہمراہ سوات کے پہاڑوں پر پاکستانی فوج سے لڑ رہے تھے۔

کرفیو کے نفاذ سے اگلے ہی روز ہمارا خاندان رات کے وقت سوات سے نکل کر لوئر دیر پہنچ گیا جہاں ہم نے ایک رات بسر کی۔ اس سفر میں میرے والد بھی ہمارے ہمراہ تھے۔

سکیورٹی حالات کی نزاکت کے پیش نظر میرے والد مزید ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے چنانچہ وہ ٹی ٹی پی کے دیگر کارکنوں کے ہمراہ پاکستان، افغانستان سرحد عبور کر کے افغانستان کے علاقے کنڑ چلے گئے۔

ہمارا خاندان 11 افراد پر مشتمل تھا جن میں میری بہنیں بھی شامل تھیں۔ ہم بھی کنٹر جانا چاہتے تھے مگر خواتین کے ہمراہ اتنا مشکل راستہ عبور نہیں کر سکے۔ اسی لیے ہم نے کراچی جانے کا فیصلہ کیا۔

کراچی میں ہمارے قیام کو چھ ماہ ہوئے تھے جب ایک پیغام رساں میرے والد کا پہلا پیغام لے کر ہم تک پہنچا۔ پیغام رساں شخص کی عمر لگ بھگ 25 برس تھی اور اس کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی جبکہ اس کے پاس ہمیں دینے کے لیے کافی رقم بھی تھی۔

میرے والد نے پیغام بھجوایا تھا کہ کراچی ایک 'لبرل' شہر ہے جہاں اُن کی بیٹیاں محفوظ نہیں رہ سکتیں۔

پیغام رساں کو میرے والد کی طرف سے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اُن کے اہلخانہ کو کراچی سے کنٹر منتقل کرنے کے انتظامات جلد از جلد کرے گا۔ اور پھر ایک ہفتے بعد ہی ہم کنڑ میں تھے۔

کنڑ منتقلی کے بعد ہمارے مالی حالات ابتدا میں کافی اچھے رہے۔ مگر ایک ہی سال میں ہمیں ملنے والی رقوم کے ذرائع ختم ہونے لگے۔ گزر اوقات کے لیے ہمیں خاندان کے وہ افراد سپورٹ کرنے لگے جو دنیا کے مختلف حصوں میں بستے تھے جبکہ 'تنظیم' کی جانب سے فقط دس ہزار ماہانہ ملتے۔

کنڑ میں زندگی کا سفر جاری رہا اور مجھے شدت پسندوں کے ایک تربیتی کیمپ میں رکھا گیا جہاں تربیت فراہم کی جاتی۔ کیمپ میں زیر تربیت چند افراد وہاں سے نکلنا چاہتے تھے اور بعض ایسے تھے جنھوں نے وہاں سے باقاعدہ فرار ہونے کی کوشش بھی کی۔ فرار کی ایسی کوششوں میں کچھ لوگ تو کامیاب رہے مگر جو پکڑے گئے انھیں ’غدار‘ قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔

ایک ہی خاندان کے سات ایسے افراد کو میری آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا جن کے حوالے سے شبہ تھا کہ وہ ’پاکستان کے چند لوگوں‘ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان افراد کے افغان ہینڈلر کو بھی ان کے ساتھ ہی قتل کر دیا گیا۔

’پھر لگ بھگ 11 برس افغانستان میں گزار کر ہم نے فیصلہ کر لیا کہ پاکستان واپس جانا ہے۔ ہمارے ساتھ چھ اور خاندان تھے۔ گذشتہ برس پاکستان واپسی کے سفر میں جلال آباد تک ہمارا پیچھا کیا گیا لیکن ہم پاکستان واپس آنے میں کامیاب رہے اور اب ہم معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

یہ کہانی خان ولی (فرضی نام) کی ہے۔ اُن کے والد، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا، افغانستان میں ہونے والے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

لاین
(فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)

مگر افغانستان سے پاکستان واپس لوٹنے والوں میں یہ کوئی واحد خاندان نہیں ہے۔ بعض سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تقریباً 44 ہزار ایسے لوگ افغانستان سے واپس پاکستان آ کر آباد ہونے کے پراسس میں ہیں جن کا تعلق ماضی میں بالواسطہ یا بلاواسطہ اُن شدت پسند تنظیموں سے رہا ہے جنھیں پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور پاکستانی سکیورٹی فورسز سے لڑائی کی وجہ سے ملک سے فرار ہوئے اور افغانستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

وطن واپس لوٹنے والوں میں سے زیادہ تر افراد اور خاندانوں کا تعلق سوات سے ہے جبکہ شمالی وزیرستان کے مداخیل قبیلے کے بھی کافی افراد ان میں شامل ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا افغانستان میں اس وقت جو خاندان آباد ہیں اُن سے کہا گیا ہے کہ وہ سفارتخانے سے رابطے کریں اور قانونی طور پر ملک واپس آئیں۔

جب اُن سے پوچھا کہ ایسے افراد کی وطن واپسی کے حوالے سے کیا پالیسی ہے جو ماضی میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہوں، اس پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا اس بارے میں انھیں معلومات نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان واپس آنے والے شدت پسندوں کے خاندانوں کا تعلق پاکستان اور خاص طور سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے ہے اور ان خاندانوں کو مختلف شہروں میں آباد کرنے کے لیے مدد کی جا رہی ہے اور اب تک سوات طالبان کے 42 مختلف خاندانوں کو پاکستان میں معمول کی زندگی گزارنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان میں کئی ایسے شدت پسندوں کے خاندان بھی شامل ہیں جو حکومت کو مطلوب رہے ہیں اور ان میں سے اکثر فوجی کارروائیوں یا ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

(فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)

ان خاندانوں کو کس پالیسی کے تحت واپس لایا جا رہا ہے؟

مگر اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ حکومت اور ٹی ٹی پی میں مذاکرات کی ناکامی اور اس کے بعد شدت پسندی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے پیش نظر ایسے خاندانوں کو واپس پاکستان لانے کے اقدامات کس سرکاری پالیسی کا حصہ ہیں؟

اس سوال پر ایک ادارے کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی پالیسی کا مقصد صرف دہشت گردوں کو ختم کرنے سے پورا نہیں ہوتا بلکہ اس کے تحت ایسے تمام محرکات کا خاتمہ بھی ضرروی ہے جو شدت پسندی کی وجہ بنتے ہیں اور ایسے افراد کو ریاست مخالف اقدامات کی جانب رغبت دیتے ہیں۔

’حکومت اگر پاکستانی طالبان کے خاندانوں کو اسی ماحول میں چھوڑ دے تو آئندہ آنے والی اور موجودہ نوجوان نسل دہشت گردی جیسے ناسور میں ہی دھنستی جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں ناکامی کے بعد اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان خاندانوں اور بچوں کو ریاست مخالف پر تشدد کارروائیوں کا حصہ بننے سے روکا جائے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی کی اس پالیسی کے تحت طالبان سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو دوبارہ پاکستان میں آباد کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سروے رپورٹ بھی تیار کی گئی ہے جس کے اعدادوشمار کے مطابق ان افراد کی تعداد 40 سے 44 ہزار تک ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان حکومت اور فوج انسداد دہشت گردی کی پالییس کے تحت ٹی ٹی پی کے نچلی سطح کے دہشت گردوں کے لیے ایسے مراکز کا اہتمام بھی کر چکی ہے جہاں انھیں معمول کی زندگی کی جانب لوٹنے میں مدد دی جاتی تھی۔

اس پالیسی کے تحت صرف ایسے دہشت گردوں کی مدد کی گئی تھی جو براہ راست عوام یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث نہیں پائے گئے تھے۔

’ہم اب بھی خوفزدہ ہیں‘

خان ولی سے جب بی بی سی نے یہ سوال کیا کہ کیا وہ خود کبھی پاکستان مخالف سرگرمیوں یا حملوں میں ملوث رہے تو انھوں نے کوئی جواب دینے کے بجائے تاسف میں اپنا سر نیچے جھکا لیا۔

مگر ان کا دعویٰ ہے کہ ابھی بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں۔

’وہ خوفزدہ ہیں کہ (پاکستان واپسی پر) ریاست اُن کے خلاف مقدمے چلائے گے۔ لیکن پچھلے چند مہینوں میں افغانستان میں اُن کی زندگی بدتر ہو گئی ہے۔‘

افغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’اپنے وطن کو دیکھ کر جوان محسوس کر رہا ہوں‘

اصل گل (فرضی نام) کا خاندان بھی اب پاکستان لوٹ چکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اُن کے سات بچے ہیں اور وہ کافی عرصے سے افغانستان کے علاقے لویہ پکتیا کے علاقے میں رہ رہے تھے۔ لیکن اس عرصے میں انھیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

’لڑائی کی وجہ سے مجھے نو بار اپنی رہائش بدلنی پڑی۔ میں نے اپنے دو بڑے بیٹے کھو دیے۔ میں بہت پہلے واپس لوٹنا چاہتا تھا لیکن میرے قبیلے نے پاکستان واپسی کو تسلیم نہیں کیا۔‘

مگر اب اصل گل بہت خوش ہیں۔ شمالی وزیرستان واپسی پر ان کا کہنا ہے کہ ’میں سات سال کے عرصے کے بعد واپس آ رہا ہوں۔ اپنے گھر، اپنے وطن کو دیکھ کر جوان محسوس کر رہا ہوں۔‘

اصل گل کی بیوی بلبلا بی بی (فرضی نام) سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ بھی خوش ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ’مجھے صرف اپنے بچوں کی فکر ہے، جہاں بھی میری فیملی محفوظ ہو میں وہاں چلی جاؤں گی۔‘

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے آبائی شہر واپس آنے پر خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں تو وہ خاموش ہو گئیں۔ کچھ ہی دیر میں وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔

’میں نے اس لڑائی میں اپنے بڑے بیٹوں کو کھو دیا، کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنے بچوں کو کھونے سے کیسا محسوس ہوتا ہے؟‘

اُن کے بیٹوں کی موت کن حالات میں ہوئی؟ اس سوال پر دونوں میاں بیوی ہی خاموش رہے۔

سوات کے خاندان

حکومت کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے مطابق ایسے خاندان جو واپس آنا چاہتے ہیں ان میں ایک سال کے بچے سے لے کر 75 سال تک کے عمر رسیدہ افراد بھی شامل ہیں جن میں سوات سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق یہ تقریبا 2200 خاندان ہیں جن کا تعلق کسی نہ کسی طریقے سے سوات میں شدت پسندی میں ملوث افراد سے رہا ہے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے ان افراد میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو آج تک کسی دہشت گردی میں ملوث نہیں رہے۔

ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو سنہ 2001 میں دیر، سوات اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کے ساتھ افغانستان چلے گئے۔

افغانستان اور سابقہ فاٹا میں حالات کشیدہ ہونے پر ان کی واپسی کا امکان ختم ہوگیا تو یہ افغانستان میں ہی پھنس کر رہ گئے اور واپس نہیں آ سکے۔

ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کے مطابق دیر، سوات اور مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے ان افراد نے خفیہ طور سے حکومت کو اپنی واپسی اور بحالی کے لیے درخواست کی تھی۔

ان کے مطابق یہ افراد بلاشبہ تاحال کسی دہشت گرد تنظیم میں باقاعدہ طور سے شامل تو نہیں لیکن کئی دہشت گرد تنظمیوں کے ارکان سے سماجی طور پر رابطے اور رشتہ داری میں منسلک ضرور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کی مدد نہیں کی گئی تو نئی آنے والی نسل اگر ایسے عناصر کے زیر سایہ بڑھے گی جو دہشت گردی میں ملوث ہیں تو یہ دہشت گردی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حکوقت بروقت اقدامات کے تحت ناصرف ان کی معاشی طور پر معاونت کرے گی بلکہ ان کے محفوظ مستقبل کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے پاکستان میں دہشت گردی مستقل طور پر ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

شمالی وزیرستان کا مداخیل قبیلہ

سنہ 2014 کے فوجی آپریشن کے دوران مداخیل قبائل کے علاقے بھی لڑائی کی زد میں آ گئے تھے اس بات سے قطع نظر کہ ان قبائل کا حکومت سے امن معاہدہ تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مداخیل قبائل کی زمین شمالی وزیرستان اور افغانستان سرحد کے 50 کلومیٹر کے دائرے میں موجود ہے۔

مداخیل قبائل کے ملک حافظ گل بہادر، جو طالبان کمانڈر بھی تھے، نے حکومت کے خلاف کاروائیوں کے لیے اپنا الگ گروپ بنا کر اس میں اپنے قبیلے کے افراد کو شامل کیا تھا۔

حافظ گل بہادر گروپ نے بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز کے آپریشنز سے بچنے کے لیے افغانستان میں پناہ لی تھی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مداخیل قبائل سے اب تک 5600 کے قریب خاندان رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں جبکہ ان میں سے 4300 کے قریب افراد کی جانچ پڑتال مکمل کر کے 3700 افراد کو پاکستان منتقل کیا جا چکا ہے۔

حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان تمام خاندانوں کو کاؤنٹر انسرجنسی پالیسی کے تحت منتقل کیا جا رہا ہے جن کی واپسی سے قبل باقاعدہ سکریننگ کی جاتی ہے۔

شمالی وزیرستان کی انتظامیہ کیا کہتی ہے؟

ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مداخیل سے فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ کے دوران افغانستان جانے والے خاندان مختلف کیمپوں میں رہائش پذیر تھے جن کی واپسی کا عمل دسمبر 2020 میں شروع ہوا تھا۔

ان کے مطابق اب تک 4500 خاندان واپس آ چکے ہیں جنھیں ٹرانسپورٹ سمیت ویکسینیشن کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان خاندانوں کو میزبان فیملیز کے پاس منتقل کیا جاتا ہے جن سے متعلق وہ پاکستان آنے پر حکام کو ایک فارم کے ذریعے آگاہ کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے ان خاندانوں کو بارہ ہزار روپے سہولت کاری الاوئنس سمیت ماہانہ آٹھ ہزار روپے کھانے پینے کے لیے بھی دیتی ہے۔

کیا انسداد دہشت گردی کے اقدامات فائدہ مند ہیں؟

دہشت گردی پر تحقیق کرنے والے محقق ریکارڈو ویلے کے مطابق انسداد دہشت گردی کے اقدمات وقتی طور پر فائدہ مند ہوتے ہیں۔

ان کے خیال میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے دہشت گردوں کا وہ بیانیہ اور نظریہ جس کے ذریعے وہ نئے افراد کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں روکنے کے لیے جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کاروائی سے وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے جب تک کہ ان کو انتہا پسندی سے روکنے کے لیے جامع پالیسی نہ بنائی جائے۔

کاونٹر ٹیریرزم پالیسی سے وقتی خطرہ ٹالا جا سکتا ہے لیکن دہشت گردوں کے اصل مقاصد کی روک تھام کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔