افغانستان میں طالبان: پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم سرحدی راستے طورخم پر طالبان تو موجود لیکن افغان پناہ گزین کیوں نہیں؟

- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین سرحدی گزرگاہ طورخم پر افغانستان کے ہرے اور لال جھنڈے کی جگہ اب امارات اسلامی کا سفید جھنڈا لہرا رہا تھا اور افغانستان کی سرحدی سکیورٹی فورسز کی جگہ اب قمیض شلوار پہنے، سر پر سفید رومال باندھے اور ہاتھوں میں بندوقیں اٹھائے طالبان کھڑے تھے۔
ان کے پاس تین سفید ڈبل کیبن گاڑیاں آ کر رکیں جس میں سے مزید مسلح طالبان اترے اور پہلے سے کھڑے جنگجؤں کی جگہ سنبھال لیں،جس کے بعد وہاں پہلے سے پہرا دیتے طالبان انھی گاڑیوں میں بیٹھ کر چلے گئے۔ شاید صبح دس بجے سرحد پر تعینات طالبان کی تبدیلی کا یہ وقت تھا۔
طالبان محافظوں نے اپنی پوزیشن سنبھالنے کے بعد افغانستان میں کھڑے مال بردار ٹرک کو پاکستان آنے کی اجازت دی، جس کے بعد تجارتی ٹرکوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
لیکن سرحد کے اس پار موجود طالبان کے مسلح جنگجو سے نہ کوئی بات کرتا نظر آیا، نہ کوئی سوال اور نہ درخواست۔
معمول سے بہت کم لوگ سرحد پر موجود تھے اور وہ بھی طالبان سے کچھ فاصلہ رکھتے نظر آئے۔ سرحد پر تعینات کچھ طالبان ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنے چہروں کو اپنی دستار کے کپڑے سے مکمل چھپایا ہوا تھا اور ان کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔
اب سے چند دن قبل جب ہم نے طورخم کا دورہ کیا تھا تو یہ سرحد افغان سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں تھی۔ اس پر تعینات افغان فوجی پاکستانی صحافیوں کی جانب سے ان کی تصاویر لینے پر برہم ہو گئے تھے لیکن طالبان کی جانب سے ایسا کوئی اعتراض تو نہیں کیا گیا مگر وہ ہمارے کیمرے کو مسلسل نظر انداز کر رہے تھے اور ان میں سے کسی نے ایک بار بھی کیمرے کی جانب نہیں دیکھا۔

طورخم پر طالبان تو موجود لیکن پناہ گزین کیوں نہیں؟
سوشل میڈیا اور ٹی وی پر کابل ائیرپورٹ پر ملک چھوڑنے کے لیے بیتاب افغان شہریوں کو دیکھ کر ہمیں لگا کہ شاید طورخم سرحد پر بھی کچھ اسی قسم کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے لیکن جب ہم وہاں پہنچے تو صرف چند ہی لوگوں کو پاکستان آنے کا منتظر پایا۔
افغانستان سے پاکستان آنے کے منتظر لوگوں کی قطار زیادہ لمبی نہیں تھی۔ مشکل سے 30 سے 40 لوگ ہوں گے لیکن اس کے باوجود وہ کافی دیر گرمی میں کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ جب ہم نے وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں سے اس تاخیر کی وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سکیورٹی کے موجودہ حالات کے باعث ہم نے وہاں سے آنے والے لوگوں کی جانچ پڑتال مزید سخت کر دی ہے تاکہ دہشتگرد عناصر کہیں داخل نہ ہو جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات درست ہے کہ ماضی میں سنہ 2015 میں پاکستان ائیر فورس کی بڈھ بیر بیس پر ہونے والا حملہ ہو یا سنہ 2016 میں باچا خان یونیورسٹی میں دہشتگردی کی کارروائی، پاکستان سکیورٹی حکام کے مطابق سہولت کار اسی طورخم سرحد کے ذریعے پاکستان داخل ہوئے لیکن ایسے واقعات کے بعد ہی پاکستان کی جانب سے سرحد پر خاردار باڑ، گیٹ اور جنگلے والی لمبی راہداریاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ایک وقت تھا جب اس سرحد کو صرف ایک زنجیر تقسیم کرتی تھی لیکن آج یہاں کئی فٹ اونچا گیٹ ہے اور دیواروں اور باڑ کے علاوہ آمدورفت کے لیے سخت جانچ پڑتال کا نظام بھی موجود ہے۔ ان اقدامات نے جہاں دہشتگروں کی نقل و حرکت کو مشکل بنایا وہیں کئی دہائیوں سے اس راستے سے آنے والے افغان پناہ گزین بھی اب اس کا رخ کرتے نظر نہیں آ رہے۔
طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین گزرگاہ ہے، سنہ 1979 میں سوویت یونین کا قبضہ ہو، سنہ 1996 میں طالبان کا پہلا دور حکومت یا پھر سنہ 2001 میں امریکہ کا افغانستان پر حملہ، افغان پناہ گزینوں نے جنگ اور تشدد سے اپنی جانیں بچانے کے لیے بڑی تعداد میں طورخم کا رخ کیا۔
لیکن اب جب طالبان پورے افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں اور بہت سے افغان شہری کابل کے ہوائی اڈے اور ایران کی سرحد سے نقل مکانی کر رہے ہیں تو آج طورخم پر پناہ گزین کیوں نہیں؟

’وہ جن سے جان بچا کر بھاگ رہے ہیں وہ ہمارے سامنے سرحد پر کھڑے ہیں‘
افغانستان سے پاکستان آنے کے لیے قطار میں کھڑے منتظر افغان شہریوں سے ہمیں بات نہیں کرنے دی گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ وہ ابھی افغانستان کی سرزمین پر ہیں، لہذا انھیں ہم سے بات کرنے کی اجازت نہیں۔
سرحد سے کچھ میٹر کے فاصلے پر 56 برس کے احسن خان ایک ٹیکسی سے اپنا سامان لے کر نکلے۔ ان کی منزل جلال آباد تھی۔ احسن کا کہنا ہے وہ بچپن سے اس سرحد کے ذریعے جلال آباد آتے جاتے ہیں لیکن جتنی سختی اب اس سرحد پر ہو گئی ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔
’مجھے یاد ہے سنہ 2015 تک ہم صبح جلال آباد جاتے تھے اور شام کو لوٹ آتے تھے۔ ایک زمانے میں تو ہم اپنی گاڑی میں بھی چلے جاتے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں کیونکہ آپ کو جانچ پڑتال کے ایک لمبے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔‘
واضح رہے کہ سنہ 2016 میں حکومت پاکستان کی جانب سے طورخم کے ذریعے پاکستان داخل ہونے والے افغان شہریوں کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی شرط کو لازمی قرار دیا گیا۔


احسن سمجھتے ہیں کہ ان تمام سخت شرائط اور سرحد پر کھڑے طالبان کے ڈر نے اس بار افغان پناہ گزینوں کو دوسرے راستے اپنانے پر مجبور کیا۔
’وہ جن سے جان بچا کر بھاگ رہے ہیں وہ ہمارے سامنے سرحد پر کھڑے ہیں۔ پھر وہاں کے غریب، غیر تعلیم یافتہ لوگ ایسے وقت میں پاسپورٹ کہاں سے لے کر آئیں گے؟‘
حکومت پاکستان کا بھی کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب تیس لاکھ افغان پناہ گزین پہلے ہی ملک میں رہ رہے ہیں تو پاکستان مزید پناہ گزینوں کو رکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے ایک بار پھر کھولنے کی درخواست کی ہے۔

پاکستانی شہری افغان طالبان کے آنے پر خوش کیوں؟
اس سرحد سے کچھ کلو میٹر دور لنڈی کوتل کا بازار ہے۔ جہاں پر مختلف گاڑیوں کے پرزوں کی دکانیں اور ڈھابہ نما ریستوران بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اوید اس بازار میں گزشتہ کئی سال سے ایک چھوٹا سا ریستوران چلاتے ہیں۔ اوید کا کہنا ہے کہ عام دنوں میں طورخم سے آنے والے زیادہ تر افغان شہری کھانے اور گاڑی کی سروس کے لیے اسی بازار میں رکتے ہیں۔
’جب سے طورخم طالبان کے کنٹرول میں گیا ہے افغان شہریوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اس سے پہلے جو لوگ آتے تھے وہ طالبان کی مختلف شہروں کی جانب پیش قدمی سے سخت پریشان تھے۔ وہ کہتے تھے کہ افغانستان اور اس کے لوگ بہت بدل گئے ہیں اور اب ان کے لیے افغان طالبان کے سخت قوانین کے تحت رہنا بہت مشکل ہے۔‘
اوید کا کہنا ہے کہ انھیں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ ان کے ریستوران پر آنے والے زیادہ تر افغان شہری، طالبان سے خوش نہیں لیکن اس کے برعکس پاکستانی شہری افغان طالبان کے آنے پر بہت خوش ہیں۔
اوید کے ساتھ کھڑے ایک دکاندار یعقوب کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے طالبان کے آنے پر خوش ہیں کیونکہ وہ افغان سکیورٹی اہلکاروں کی پاکستانیوں کے ساتھ بدسلوکی سے تنگ تھے۔
’ہم اس لیے خوش ہیں کہ اب کم از کم ہمارے ساتھ سرحد پر برا سلوک نہیں ہو گا۔ ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کس کی حکومت ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سرحد سے روز آنے جانے میں تکلیف نہ ہو۔‘
لیکن یعقوب اکیلے نہیں جو طالبان کی جانب سے سرحد کنڑول سنبھالنے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان چیمبر آف کامرس میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سینیئر عہدیدار ضیا سرحدی کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاجروں کے اطمینان اور خوشی کی ایک یہ بھی وجہ ہے کہ طالبان کی جانب سے سرحد پر لیے جانے والا ٹیکس اشرف غنی حکومت سے بہت کم ہے۔
لیکن ٹماٹروں سے لدا ایک ٹرک افغانستان سے پاکستان لانے والے مجنون نے ہمیں بتایا کہ انھیں آج سے پہلے اس سرحد سے گزرتے ہوئے کبھی اتنا خوف محسوس نہیں ہوا۔
’ہم ڈرتے ہیں کہ کب کسی کو ہماری کوئی بات بری لگ جائے اور ہم جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔‘












