پاکستان کی سرحدوں پر پابندیاں اور چمن کی تاریخ کا طویل احتجاج

چمن بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

،تصویر کا کیپشنکورونا وائرس کے باعث لوگوں کا روز گار ختم ہو گیا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

جان محمد اچکزئی کے کبھی وہم و گمان میں بھی یہ نہیں ہو گا کہ ان کا ذریعہ روزگار اتنے طویل عرصے تک بند بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن نہ صرف ایسا ہوا بلکہ اب تو وہ اس خدشے سے بھی دوچار ہیں کہ آیا ان کا روزگار اب پہلے کی طرح بحال ہو بھی سکے گا یا نہیں۔

جان محمد کا تعلق افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ہے۔

وہ ان ہزاروں محنت کشوں میں شامل ہے جو کورونا وائرس وبا کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندیوں سے پہلے صبح سے شام تک افغان سرحد کے ساتھ زیرو پوائنٹ پر روزانہ اجرت کی بنیاد پر محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کماتے تھے۔

دو مارچ کو جب کورونا وائرس کے باعث چمن سرحد کو ہرقسم کی آمد ورفت کے لیے مکمل بند کیا گیا تو جان محمد بھی دیگر محنت کشوں اور تاجروں کی طرح اس امید کے ساتھ گھر بیٹھ گئے کہ چند دن بعد جب یہ وبا ٹل جائے گی تو وہ واپس اپنے روزگار کی طرف لوٹیں گے لیکن روزگار کی بحالی میں تاخیر طویل ہوتی جا رہی ہے۔

جب مئی کے وسط میں چمن سرحد سے مال بردار گاڑیوں کی آمد ورفت کے حوالے سے نرمی کی گئی تو جان محمد کو پھر سے امید ہو چلی کہ چند دن کے بعد ان کی محنت مزدوری کا سلسلہ بھی شروع ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا جس کے باعث جون کے آغاز سے جان محمد بھی اس احتجاج کا حصہ بن گئے ہیں جو کہ چمن کے محنت کش اور مقامی تاجر کر رہے ہیں۔

چمن بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

روزگار کی بحالی میں تاخیر سے جان محمد کا لب و لہجہ بھی اب کافی تلخ ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں کہ 'جو لوگ بنگلوں میں بیٹھے ہیں۔ ان کو احساس تک نہیں ہے کہ چمن کے لوگ کس مشکل سے دوچار ہیں۔ چمن میں نہ کارخانہ ہے، نہ زراعت اور نہ ہی روزگار کا کوئی اور ذریعہ۔'

ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے روزگار کے ذریعے کو کھول دیا جائے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو چمن میں جو سرکاری ملازم ہیں وہ اپنے بنگلے اور نوکریاں ہمارے حوالے کریں اور خود ہماری طرح محنت مزدوری کریں تاکہ انھیں احساس ہو کہ روزانہ کمانے اور کھانے والوں کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے۔

محمد علی عرف منڈو بھی چمن میں جاری اس اجتجاج کا حصہ ہیں۔ وہ سینکڑوں مظاہرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'ہم محنت مزدوری کرکے زیادہ سے زیادہ دن کا پانچ سو یا ہزار روپے کماتے تھے ۔ لیکن اب ہمارے لیے کوئی متبادل روزگار نہیں ہے۔'

تفتان

،تصویر کا ذریعہAsif Baloch

مزدوروں کے گھوڑوں اور گدھوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انسان تو انسان روزگار بند ہونے کی وجہ سے اب ان جانوروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔ ان کے مطابق اب مزدور ان کے لیے چارے کا بھی بندوبست نہیں کرسکتے، جس کی وجہ سے اب تک ان میں سے کئی جانور مربھی چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں بیٹھے لوگ چمن آکر دیکھیں کہ یہاں اور ہے کیا جسے ہم متبادل روزگار کے طور پر اختیار کر سکیں۔' دھرنے اور احتجاج کے دیگر ذرائع کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ چمن سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شاہراہ کو بھی بند کیا گیا ہے۔

چمن شہر کی تاریخ کا طویل ترین احتجاج

چمن شہر کی آبادی کی اکثریت تجارت سے وابستہ ہے ان کے اس تجارت کا انحصار سرحد پار سے آنے والی اشیا پر ہے۔ تاجروں کی طرح محنت مزدوری کرنے والے افراد کی بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کی آمدنی کا انحصار بھی سرحد سے وابستہ ہے ۔

چمن کے مقامی تاجر رہنما صادق خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کی آمدن کا براہ راست انحصار سرحد یا سرحدی تجارت پر ہے ان کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہے جن میں مقامی تاجر اور روزانہ اجرت پر محنت مزدوری کرنے والے لوگ شامل ہیں ۔

ان لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر افغانستان جانا اور آنا پڑتا ہے بلکہ محنت مزدوری کرنے والوں کو زیرو پوائنٹ تک کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔

جب حکومت پاکستان نے کورونا کے حوالے سے ایرانی سرحد کی طرح افغان سرحد کو بھی بند کیا تو ان لوگوں کے روزگار کا سلسلہ بند ہوگیا۔ بعد میں سرحد پر لگنے والی پابندیوں کے حوالے سے کئی نرمیاں کی گئیں لیکن روزانہ آمد ورفت کرنے والوں کے لیے پابندی اب بھی برقرار ہے۔

ان پابندیوں کے خلاف چالیس روز سے زائد کے عرصے سے احتجاج جاری ہے۔ یہ طویل ترین احتجاج اب جلسے جلوس سے بڑھ کر دھرنے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

بلوچستان میں نہ صرف چمن بلکہ افغانستان اور ایران سے متصل تمام سرحدی علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا بڑا انحصار سرحد پار سے آنے والی اشیا پر ہے۔

بلوچستان: افغانستان اور ایران سے متصل اضلاع

چمن بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

افغانستان کے ساتھ بلوچستان کے چھ جبکہ ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں متصل ہیں۔ ان میں چاغی واحد ضلع ہے، جس کی سرحدیں دونوں ممالک سے متصل ہیں۔

سنہ 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کی ایک کروڑ 23 لاکھ سے زائد کی مجموعی آبادی میں ان دس اضلاع کی مجموعی آبادی 42 لاکھ 17 ہزار 444 ہے جو کہ 34 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

ان میں افغانستان سے متصل اضلاع میں سے ژوب کی آبادی تین لاکھ دس ہزار 544 ہے۔ قلعہ سیف اللہ کی آبادی تین لاکھ 42 ہزار 814، پشین کی سات لاکھ 36 ہزار 481، قلعہ عبداللہ کی سات لاکھ 57 ہزار 578، نوشکی کی ایک لاکھ 78 ہزار 796 اور چاغی کی آبادی دو لاکھ 26 ہزار آٹھ بنتی ہے۔

جبکہ چاغی کے سوا ایران سے متصل دیگر چار اضلاع میں سے ضلع واشک کی آبادی ایک لاکھ 76 ہزار 206، پنجگور کی تین لاکھ 16 ہزار 385، کیچ کی نو لاکھ نو ہزار 118 اورگوادر کی آبادی دو لاکھ 63 ہزار 514 ہے۔

ان دس اضلاع میں قلعہ عبداللہ میں چمن، چاغی میں تفتان اور واشک میں ماشکیل کے سوا پاکستان کی جانب کوئی بڑا شہر نہیں ہے۔

تفتان

،تصویر کا ذریعہAsif Baloch

ان تمام اضلاع میں لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار زراعت اور لائیو اسٹاک یا سرحد پار سے آنے والی اشیا کی قانونی اور غیر قانونی کاروبار سے وابستہ ہے۔ افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں کے برعکس ایران سے متصل لوگوں کے کھانے پینے کی بہت ساری اشیا کے لیے انحصار بھی ایران پر ہے۔

سرحدوں کی بندش کے بعد ان علاقوں کے لوگوں کو شدید مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پانچ جولائی سے ایران کے ساتھ چار دیگر مقامات گبد، مند، کٹا گر اور چیدگی سے سرحد کو کھولنے کے بعد دونوں ممالک کے ساتھ سرحدوں کو دوطرفہ تجارت کی غرض سے مال بردار گاڑیوں کے لیے تو کھول دیا گیا ہے ہے لیکن ان سے پہلے کی طرح سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی آمد و رفت پر تاحال پابندی برقرار ہے۔

تجارتی اہمیت کے حامل سرحدی مقامات

افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی اضلاع میں سے کئی مقامات سے قانونی اور غیر قانونی آمد و رفت ہوتی ہے۔

چمن بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

ان میں ایران کے ساتھ متصل اضلاع کو انسانی سمگلنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانی سمگلر پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان بہتر روزگار کے متلاشی افراد کو ان اضلاع سے ایران اور ترکی کے راستے یورپ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم آمد و رفت کے دیگر راستوں کے مقابلے میں افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن اور ایران سے متصل تفتان دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اشیا کے لیے مال بردارگاڑیوں کی اکثریت کی آمد و رفت انہی علاقوں سے ہوتی ہے۔

ان دونوں سرحدی علاقوں میں چمن کی اہمیت کچھ اس حوالے سے زیادہ ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں اسی علاقے سے ہوکر گزرتی ہیں جبکہ افغانستان کے جنوبی مغربی علاقوں میں نیٹو کے جو فوجی تعینات ہیں ان کے لیے رسد کا راستہ بھی یہی ہے۔

افغانستان کے ساتھ چھ اضلاع میں سے ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین اور قلعہ عبد اللہ کی آبادی مختلف پشتون قبائل جبکہ دو دیگر اضلاع نوشکی اور چاغی کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ ایران سے متصل تمام اضلاع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

تفتان

،تصویر کا ذریعہAsif Baloch

،تصویر کا کیپشنسرحد بند ہونے سے تمام کاروبار ٹھپ ہو گیا تھا

پاک افغان سرحدی علاقوں میں کیا مشترکات ہیں؟

افغانستان اور ایران کے ساتھ تمام اضلاع میں پسماندگی بہت زیادہ ہے تاہم باقی علاقوں کے مقابلے میں چمن شہر اور تفتان کی حالت دیگر سرحدی علاقوں کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر ہے۔

تمام سرحدی علاقوں میں زراعت اور گلہ بانی کے علاوہ لوگوں کا ذریعہ معاش قانونی اور غیر قانونی تجارت پر ہے۔

ماہرین کے مطابق چونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پہلے کے مقابلے میں بارشیں کم ہو رہی ہیں جس کے باعث زراعت اور گلہ بانی بری طرح متاثر ہوگئی ہیں۔ تاہم افغانستان کے ذیادہ تر علاقوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں میں یہ دو شعبے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی ثنا بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ 70سال کے دوران ان سرحدی علاقوں کی ترقی اور لوگوں کے معاش کو بہتر بنانے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی جس کی وجہ سے یہ علاقے سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے اضلاع میں انسانی ترقی کے حوالے سے جو تازہ رپورٹ آئی ہے ان میں ایران سے متصل ضلع واشک سب سے پسماندہ ترین ضلع ہے۔'چاغی سے سونا اور تانبا نکلتا ہے لیکن خود حکومتی رپورٹس کے مطابق وہاں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے جبکہ گوادر شہر میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے لیکن اس کے سرحدی اور دور دراز کے علاقوں میں غربت کے باعث لوگوں کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔'

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جو اضلاع ہیں وہاں بھی پسماندگی اور غربت کی شرح بہت زیادہ ہے۔

چمن بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

،تصویر کا کیپشنچمن میں بے روز گاری کی وجہ سے لوگ کے پالتو جانورں کو خوراک مہیا نہیں کر پا رہے

وہ کہتے ہیں گذشتہ 70سال سے زائد کے عرصے سے ان علاقوں کی ترقی اور لوگوں کے روزگار کے لیے ذرائع پیدا کرنے کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہ ہونے کے باعث دونوں سرحدی علاقوں کے لوگوں کے روزگار اور معاش کے بہت بڑے حصے کا انحصارسرحدی تجارت پر ہے۔

ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں میں منفرد کیا ہے؟

افغانستان کے مقابلے میں ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں میں لوگوں کی خوراک کی بنیادی اشیا کا انحصار بھی ایران پر ہے جن میں آٹا، کوکنگ آئل، بسکٹ، منرل واٹر اور کولڈ ڈرنکس، پولٹری، سبزی اور پھل شامل ہیں۔

ایران سے متصل ضلع کیچ کے علاقے کپکپار سے تعلق رکھنے والے طالب علم مجید کپکپاری کا کہنا ہے ایران سے آنے والی خوراک کی اشیا کی نہ صرف قیمت کم ہے بلکہ معیار بھی بہتر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سنہ 1998 کے بعد جاری رہنے والی طویل خشک سالی میں ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں خوراک کی اشیا کے حوالے سے معاملہ زیادہ سنگین نہیں ہوا۔

چونکہ ایران میں پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات بہت زیادہ سستی ہیں جس کے باعث اس سے متصل سرحدی علاقوں کے لوگوں کے معاش کا انحصار کا ایک بڑا ذریعہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات بھی ہیں۔

ایرانی پیٹرول اور ڈیزل ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں آنے کے بعد نہ صرف بلوچستان کے مختلف علاقوں تک پہنچتے ہیں بلکہ یہ کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں تک بھی پہنچائے جاتے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی اشیاء بالخصوص پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ سے پاکستانی معیشت کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں لوگوں کو بھی تاحال آمد و رفت کی اجازت نہیں تاہم مال بردار گاڑیوں کی آمد رفت کی اجازت ملنے کے بعد تفتان کے لوگ خوش ہیں۔

تفتان میں ایک دکاندار نذیر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کورونا کے باعث سرحدوں کی بندش کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

تفتان

،تصویر کا ذریعہAsif Baloch

ان کا کہنا تھا کہ اس بندش کے بعد تفتان ویرانی کا جو منظر پیش کررہا تھا وہ ہم نے پہلے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تاہم اب اللہ کا شکر ہے کہ زیرو پوائنٹ کھل گیا ہے اور مال بردار گاڑیوں کی آمد ورفت بھی ہو رہی ہے۔

نذیر احمد نے بتایا کہ اب بہت ساری چیزیں کھلنے کے بعد تفتان کی رونقیں بحال ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں ۔

ایرانی سے متصل سرحدی علاقوں کے مقابلے میں افغانستان سے منسلک سرحدی علاقوں میں مختلف پہلوکیا ہے ؟

ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے مقابلے میں افغانستان سے متصل سرحدی علاقے کئی حوالوں سے مختلف بھی ہیں۔

افغانستان سے متصل پاکستان کے سرحدی علاقوں میں لوگوں کا بنیادی خوراک کی اشیاءکے لیے افغانستان پر انحصار نہیں بلکہ اس کے برعکس افغانستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کا بنیادی خوراک کی اشیاءکے لیے انحصار پاکستان پر ہے۔ تاہم افغانستان سے بھی خوراک کی اشیاء آتی ہیں لیکن وہ زیادہ تر موسمی پھل اور خشک فروٹ وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں ۔

اگرچہ افغان سرحد کی طرح ایران سے متصل بلوچستان کے جو سرحدی ٹاﺅن شپس ہیں ان کے ساتھ ایران کا کوئی ٹاﺅن شپ نہیں جبکہ اس کے برعکس افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے ساتھ افغان سائیڈ پر بھی بڑی آبادی جڑی ہے اورسرحد کی دونوں جانب نہ صرف ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں بلکہ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں ۔

ایرانی سرحدی علاقوں میں جو اشیاء آتی ہیں وہ ایرانی ہیں جبکہ افغانستان سے خوراک کی اشیاء کے علاوہ باقی جو زیادہ تر اشیاء آتی ہیں وہ افغانستان کی نہیں بلکہ دیگر ممالک کی ہیں ۔

پاکستانی حکام ایران سے آنے والی جن اشیاءکی آمد کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں وہ خوراک کی اشیاء کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات، قالین، چٹائیاں، کمبل، کراکری اور کولر وغیرہ پر مشتمل ہیں جبکہ افغانستان سے آنے والی اشیاء زیادہ تر الیکٹرانکس کی اشیاء پر مشتمل ہیں جبکہ اس کے علاوہ گاڑیوں کے ٹائروں کے علاوہ گاڑیاں بھی پاکستان لائی جاتی ہیں۔

چونکہ سرحدی علاقوں بالخصوص چمن کے لوگوں کی آبادی کے ایک بہت بڑے حصے کے معاش اور روزگار کا انحصار ان ہی غیر ملکی اشیاء پر ہے اس لیے بلوچستان کی اکثر سیاسی جماعتیں سرکاری حکام کے موقف کے برعکس اسے ان غیر ملکی اشیاءکی غیر قانونی آمد کو اسمگلنگ نہیں بلکہ سرحدی تجارت قرار دیتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ اس پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہونی چاہیے ۔

تفتان

،تصویر کا ذریعہAsif Baloch

،تصویر کا کیپشنسرحد بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں گہما گہمی بھی کم ہو گئی تھی

چمن سے پیدل آمد و رفت پر پابندی کے حوالے سے سرکاری حکام کا موقف کیا ہے ؟

جن اشیاءکو یہاں کے لوگ اورسیاسی جماعتیں سرحدی تجارت قرار دیتی ہیں سرکاری حکام اسے اسمگلنگ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔

چمن کے احتجاج کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی سربراہی میں کوئٹہ میں جو اجلاس منعقد ہوا اس میں سیکورٹی سے متعلق اداروں کے علاوہ کسٹمز کے حکام نے بھی شرکت کی ۔

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق اس اجلاس میں سیکیورٹی سے متعلق اداروں کے حکام کے علاوہ کسٹمز کے حکام نے بتایا کہ ماضی میں سرحدی کشیدگی اور بدانتظامی کے باعث پاکستان اور افغانستان سرحد کو عارضی طور پر بند کیا جاتا رہا ہے اورکورونا وائرس کی موجودہ صورتحال بھی اس وقت سرحد کی بندش کی ایک بڑی وجہ ہے۔

اجلاس کو سرکاری حکام نے بتایا کہ 'ایک اندازے کے مطابق روزانہ بارہ سے پندرہ ہزار افراد دونوں اطراف سے سرحد عبور کرتے ہیں جن میں محنت مزدوری کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔'

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان جانے والی اشیاءافغان سرحدی علاقے میں اتاری جاتی ہیں جن میں سے بیشتر اشیاء ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر واپس پاکستان لائی جاتی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچتا ہے جبکہ سمگلنگ اور غیرقانونی آمدورفت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں امن وامان اور دہشت گردی کا خدشہ موجود رہتا ہے۔'

اس صورتحال کے باعث سیکورٹی سے متعلق حکام چاہتے ہیں کہ سرحدوں سے لوگوں کی آمد و رفت کو ریگولیٹ کیا جائے۔

چمن سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی نورزمان اچکزئی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکام کی جانب سے آمد ورفت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پاسپورٹ تجویز بھی سامنے آئی ہے ۔

چمن میں احتجاج کے خاتمے کے لیے حکومت بلوچستان کی کوششیں

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی سربراہی میں ایک اجلاس میں چمن میں احتجاج کے خاتمے سرحد کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے دو کمیٹیاں بنائی ہیں ۔ان میں سے ایک جائزہ کمیٹی اراکین اسمبلی پر مشتمل بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کی سربراہی میں جبکہ دوسری انتظامی کمیٹی چیف سیکریٹری بلوچستان کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے ۔

اراکین اسمبلی کی کمیٹی نے چمن کا دورہ کیا وہاں احتجاجی دھرنے پر بیٹھے تاجروں اور مزدوروں کے علاوہ سیاسی اور قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کیں ۔

ان ملاقاتوں کے حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ 'پاکستان میں روزگار کے بہت سے مسائل ہیں لیکن کچھ باتیں عوامی ہوتی ہیں جبکہ بعض مسائل سرکار اور سیکیورٹی فورسز نے حل کرنے ہوتے ہیں۔'

انہوں نے مسئلے کا حل نکالنے تک حکومت کی جانب سے ان لوگوں کو احساس پروگرام سے 20 ہزار روپے دینے کی پیش کش کی جن کا روزگار متاثر ہوا ہے جبکہ مسئلے کا حل نکالنے تک تاجروں اور محنت کشوں کو احتجاج ملتوی کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق 'چمن کے قبائلی عمائدین اور تاجروں کا یہ موقف تھا کہ 1893 کے ڈیورنڈ لائن معاہدے سے قبل چمن باڈر پر تجارت کا سلسلہ جاری تھا اور انگریزوں نے معروضی اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحد کی دونوں جانب آباد قبائل کی مشترکہ اراضیات اور رشتہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی تسلیم کرلی تھی لیکن اب اس آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جوکہ افسوسناک ہے"۔

چمن کے تاجر رہنما صادق اچکزئی نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے تاجروں اور محنت کشوں نے احساس پروگرام کے تحت پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کمیٹی کی درخواست پر مسئلے کا حل نکالنے تک احتجاج ختم کرنے کی درخواست کو بھی تسلیم نہیں کیا ۔

تاجر رہنما نے کہا کہ احتجاج کرنے والے افراد کا یہ موقف ہے کہ ان کے معاش اور روزگار کا انحصار افغانستان کے سرحدی منڈیوں سے وابستہ ہے اس لیے کورونا کے حوالے سے پابندیوں سے قبل جس طرح ان کو روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آمدورفت کی اجازت تھی ایس او پیز کے تحت انہیں اسی طرح اب بھی روازنہ آمد ورفت کی اجازت دی جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مطالبہ سمیت بعض دیگر مطالبات تسلیم ہونے تک تاجروں اور محنت کشوں نے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چمن بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzayi

صادق اچکزئی کے مطابق چمن کے قبائلی عمائدین اور تاجروں کو پاسپورٹ وغیرہ کی شرط قبول نہیں کیونکہ ایسا کوئی قدم سرحد کی دونوں جانب آباد خاندانوں کو تقسیم کا باعث بنے گا ۔

سیاسی جماعتوں کا موقف کیا ہے ؟

مقامی تاجروں اور محنت کشوں کے علاوہ سرحدی علاقوں میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں نے چمن سے مقامی قبائل کے لیے پاسپورٹ کے ذریعے آمد ورفت کی تجویز کو مسترد کیا ہے ۔

بلوچستان حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اورچمن شہر سے رکن بلوچستان اسمبلی اصغر خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ کی تجویز ناقابل عمل ہے ۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے مقامی تاجروں اور محنت کشوں کے لیے سرحد کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے اسے پشتونوں کے خلاف پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ کی استعماری پالیسی قرار دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے اس پالیسی کے تحت جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کو معاشی طور پر بدحال کرنا مقصود ہے۔

انہوں نے ریاست کی جانب سے محنت کشوں کو 15 سے 20 ہزار روپے کی پیشکش کو ایک سنگین مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا اب لوگ اپنے پیاروں کی میتیں اپنے قبرستان میں دفن کرنے کے لئے ویزا یا پاسپورٹ حاصل کرنے کےبعددفن کریں گے ۔

ان کا کہنا ہے سرحد کی دونوں جانب ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے قبائل آباد ہیں جن کی زمینیں آدھی اس پار اور آدھی اس پار ہیں کسی کا قبرستان اس طرف ہے تو کسی کا اس طرف یہ سلسلہ 2 سو سال سے چلا آرہا ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ 'یہ بتایا جائے کہ کیا اب کوئی روٹی کے لئے ویزا حاصل کرے گا یا پھر جس کی زمینداری اس پار ہو تو وہ فصل حاصل کرنے کے لئے پاسپورٹ اور اس پھر ٹھپہ لگوا کر حاصل کی گئی فصل اپنے گھر لائے گا۔'

جمیعت علمائے اسلام بھی تاجروں اور مزدوروں کی حمایت میں پیش پیش ہے ۔

سرحدی علاقوں سے آنے والی اشیاءکے بارے سرکاری حکام اور سیاسی جماعتوں اور تاجروں کا جو بھی موقف ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد کی معاش اور روزگار کا انحصار نہ صرف پہلے قانوی اور غیر قانونی سرحدی کاروبار پر تھا بلکہ کرونا کے بحران کے باعث اب یہ انحصار مزید بڑھ گیا ہے ۔

اب دیکھنا ہے یہ کہ حکومت کی کیا حکمت عملی ہوگی آیا وہ سرحد سے چمن سے مقامی تاجروں اور مزدوروں کی آمد و رفت کو پہلے کی طرح بحال کرے گا یا نہیں ۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگرکورونا سے پہلے کی طرح چمن کے تاجروں اور مزدوروں کو افغانستان آمدورفت کی اجازت نہیں دی گئی تو چمن میں جاری احتجاج نہ صرف شدت اختیار کرسکتی بلکہ اس کا دائرہ بلوچستان کے دیگر علاقوں تک وسیع ہوسکتی ہے ۔

اس صورتحال کے حوالے سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال خان کا کہنا ہے کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو حاصل اختیارات کے تحت ملکی مفاد میں فیصلے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے وفاقی حکومت سے متعلق امور پر وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ اس مسئلہ کا فوری اور مستقل بنیادوں پر حل ممکن ہوسکے۔