افغانستان: طالبان کے قبضے کے بعد اب افغان پناہ گزین کہاں جائیں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وژول جرنلزم ٹیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
طالبان کے افغانستان پر تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ قبضے کے نتیجے میں ہزاروں افغان شہری ملک سے بھاگ کر کہیں اور پناہ کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
افغانستان کے پڑوسی ممالک میں 22 لاکھ پناہ گزین پہلے سے ہی موجود ہیں اور تقریباً 35 لاکھ افراد جاری تنازع اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے افغانستان کی سرحدوں پر بے گھر ہیں۔
کتنے افغان ملک چھوڑ رہے ہیں؟
ابھی تو یہ واضح نہیں ہے۔
طالبان کا افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تمام مرکزی زمینی راستوں پر کنٹرول ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ افغان ملک چھوڑ کر کہیں جائیں۔ اطلاعات کے مطابق صرف تاجر یا جن کے پاس مکمل سفری دستاویزات ہیں ان کو ملک سے جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’افغانوں کی اکثریت باقاعدہ طریقوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کے قابل نہیں ہے۔ آج سے جو لوگ خطرے میں ہیں ان کے پاس باہر نکلنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہے۔‘

تاہم کچھ مہاجرین ملک سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کئی ہزار افغان طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے کے کچھ دیر بعد ہی پاکستان میں داخل ہو گئے تھے، جبکہ تقریباً 1500 افغان ازبکستان میں داخل ہونے کے بعد سرحد کے قریب ہی خیموں میں رہ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابل میں، ہزاروں لوگ ملک سے باہر جانے کی کوشش میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا رخ کر رہے ہیں، جو اس وقت ملک میں واحد ہوائی اڈہ ہے جہاں سے پروازیں اڑ رہی ہیں۔
اتوار کو وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی 14 اگست سے لے کر اب تک 30 ہزار سے زائد افراد کو کابل سے باہر نکال چکے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے افغان شہری ہیں۔
کتنے لوگوں نے گھر بار چھوڑا؟
افغانستان میں کئی برسوں سے جاری عدم استحکام اور لڑائی کی وجہ سے افغان شہریوں کو مجبوراً ہجرت کرنا پڑتی رہی ہے اور حالیہ ہجرت بھی اسی تاریخی انخلا کا حصہ ہے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق طالبان کے دوبارہ کنٹرول سنبھالنے سے پہلے ہی اس سال 5 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد لڑائی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
اس کا مطلب ہے کہ اس وقت ملک میں ایک اندازے کے مطابق 35 لاکھ افراد بے گھر ہیں۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال کے آخر تک تقریباً 22 لاکھ افراد ہمسایہ ممالک میں پناہ تلاش کر رہے تھے۔
اس سال ملک کے بیشتر حصوں میں افغانوں کو خشک سالی اور خوراک کی کمی کا بھی سامنا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کی جون میں آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد، جو کہ کل آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں، بھوک کا شکار ہیں۔
افغان پناہ گزین کہاں جائیں؟
گزشتہ سال افغانستان سے سب سے زیادہ پناہ گزین ہمسایہ ممالک پاکستان اور ایران گئے تھے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق سنہ 2020 میں تقریباً 15 لاکھ افراد پاکستان گئے جبکہ ایران نے سات لاکھ 80 ہزار افراد کو پناہ دی۔
ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد کے ساتھ جرمنی تیسرے نمبر پر، جبکہ ترکی نے تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو پناہ دی۔
اگر صرف پناہ کے متلاشی افراد کے اعداد و شمار کو ہی دیکھا جائے (وہ جنھوں نے کسی دوسرے ملک میں پناہ کے لیے درخواست دی ہے لیکن جن کی ابھی درخواست منظور نہیں ہوئی)، تو ان میں ترکی، جرمنی اور یونان بالترتیب ایک لاکھ 25 ہزار، 33 ہزار اور 20 ہزار کے ساتھ سرفہرست ہیں۔

اگرچہ ایران میں پناہ کے متلاشی یا درخواست گزار افغان موجود نہیں ہیں، لیکن وہاں جن مہاجرین کے پاس مہاجر کارڈ (ایک سرکاری دستاویز جو ان کی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے) ہے وہ ملک کے صحت اور تعلیم کے نظام تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
دوسرے ممالک ان کی مدد کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
اگرچہ بعض ممالک نے افغانوں کو محفوظ پناہ گاہوں کی پیشکش کی ہے، لیکن کئی ایک نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ملک سے جان بچا کر بھاگنے والوں کو پناہ نہیں دیں گے۔
پاکستان
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جون میں کہا تھا کہ اگر طالبان نے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیا تو ان کا ملک اس کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دے گا۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق کئی ہزار افغان پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں اور کم از کم ایک بارڈر کراسنگ ابھی تک کھلی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان تاجروں اور درست سفری دستاویزات رکھنے والوں کو سرحد کے آر پار جانے دے رہے ہیں۔
ایران
ایران نے اپنے ان تین صوبوں میں مہاجرین کے لیے ہنگامی خیمے لگائے ہیں جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ لیکن ایرانی وزارت داخلہ کے سینئر حکام نے کہا ہے کہ جو افغان بھی ایران میں داخل ہوں گے انھیں ’حالات بہتر ہونے کے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔‘ اقوام متحدہ کے مطابق ایران پہلے ہی تقریباً 35 لاکھ افغانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
ترکی
صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں استحکام اور پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر کو ترکی کی طرف آنے سے روکنے کے لیے کام کرے گی۔ ترک حکومت تارکین وطن کے ملک میں داخلے کو روکنے کے لیے ایران کے ساتھ سرحدی دیوار کی تعمیر میں بھی تیزی لائی ہے۔

تاجکستان
درست تعداد تو واضح نہیں ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ حالیہ دنوں میں افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں سمیت کم از کم کئی سو افغان تاجکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ جولائی میں تاجکستان نے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے ایک لاکھ پناہ گزینوں کو رکھنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ازبکستان
کہا جاتا ہے کہ تقریباً 15 سو افغان سرحد پار کر کے تاجکستان میں خیمے لگا چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق طالبان صرف ان لوگوں کو سرحد کے پار جانے دے رہے ہیں جن کے پاس ویزا اور دوسرے سفری دستاویز ہیں۔
برطانیہ
برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک منصوبے کے تحت طویل مدت کے لیے 20 ہزار افغان مہاجرین کو قبول کرے گا۔ برطانوی حکومت کی افغان شہریوں کی آبادکاری کی سکیم (افغان سیڑیزنز ریسیٹلمنٹ سکیم) پہلے سال 5000 افغانوں کو برطانیہ میں آباد ہونے کی اجازت دے گی اور اس کی توجہ خواتین اور بچوں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور دیگر اقلیتوں پر بھی مرکوز ہو گی، جن کو طالبان سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ
صدر جو بائیڈن نے ’پناہ گزینوں اور مہاجرین، تنازعات کا شکار اور افغانستان کی صورت حال کی وجہ سے خطرے میں مبتلا افراد کی غیر متوقع فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے 500 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، ان میں خصوصی امیگرنٹ ویزوں کے درخواست گزار بھی شامل ہیں‘۔ امریکہ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے مہاجرین کو ملک میں پناہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
کینیڈا
کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ 20 ہزار افغان باشندوں کو پناہ دے گا، جن میں اس کی توجہ ان افراد پر ہو گی جن کو طالبان سے خطرہ ہے، اور اس میں سرکاری کارکن اور خواتین رہنما بھی شامل ہوں گی۔
آسٹریلیا
آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے پناہ کے لیے بھاگنے والے باشندوں کے لیے اپنے ویزا پروگرام میں تین ہزار جگہیں مختص کرے گا۔ لیکن یہ جگہیں اس وقت جاری انسانی بنیادوں پر دیے جانے والے ویزوں کے پروگرام سے ہی لی جائیں گی اور مجموعی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
یورپی یونین
یورپی یونین کے کئی رکن ممالک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ 2015 کے تارکین وطن کے بحران کو دہرانے سے بچنے کے خواہاں ہیں، جب یورپی یونین میں بڑی تعداد میں مہاجرین کو داخلے کی اجازت دینے کی وجہ سے انھیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جرمنی
جرمنی نے اشارہ کیا ہے کہ وہ کچھ افغانوں کو قبول کرے گا، لیکن اس نے مخصوص تعداد نہیں بتائی ہے۔ چانسلر انگیلا مرکل نے، جنھیں 2015 میں تارکین وطن کے بارے میں اپنی پالیسی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، کہا ہے کہ ان کی حکومت اس بات پر ’توجہ مرکوز کر رہی ہے کہ پناہ گزینوں کا افغانستان کے پڑوسی ممالک میں محفوظ قیام ہو۔‘
فرانس
صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ یورپ کو افغانستان سے ’غیر قانونی تارکین وطن کی لہر‘ سے خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ فرانس ان ’لوگوں کی حفاظت کرے گا جن کو سب سے زیادہ خطرہ ہے‘۔
آسٹریا
آسٹریا نے افغان مہاجرین کو لینے سے انکار کیا ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ نے ان افغان پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کی بات کی ہے جن کی پناہ کی درخواستیں رد ہو چکی ہیں۔ انھوں نے افغانستان کے پڑوسی ممالک میں ’ڈیپورٹیشن سینٹرز‘ کے قیام کے لیے بات چیت کی ہے۔
سوئٹزرلینڈ
سوئٹزرلینڈ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے براہ راست آنے والے پناہ گزینوں کے بڑے گروہوں کو قبول نہیں کرے گا۔

شمالی میسیڈونیا، البانیا اور کوسوو
شمالی میسیڈونیا اور البانیا نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی درخواست پر بالترتیب 450 اور 300 مہاجرین کی میزبانی کریں گے۔ توقع ہے کہ مہاجرین وہاں امریکی ویزا کے لیے دستاویزات کا بندوبست ہونے تک قیام کریں گے۔ کوسوو بھی امریکہ جانے والے مہاجرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے لیکن اس نے ابھی تک مہاجرین کی کوئی حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔
یوگینڈا
یوگینڈا نے دو ہزار افغان مہاجرین کو قبول کرنے کی حامی بھری ہے۔ مشرقی افریقہ کے اس ملک میں افریقہ کے کسی بھی ملک سے زیادہ پناہ گزینوں کی تعداد موجود ہے اور دنیا میں بھی سب سے زیادہ پناہ گزینوں کو رکھنے والا یہ تیسرا ملک ہے۔










