خالد بلتی کی ہلاکت کی تصدیق: افغانستان میں ہلاک ہونے والے کراچی کے مدرسے کے سابق استاد اور طالبان رہنما کون تھے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالسید
- عہدہ, محقق، سویڈن
تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنے رہنما مفتی خالد بلتی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے جنھیں چند روز قبل افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں پراسرار طور پر اغوا کر بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
مفتی خالد بلتی کا حقیقی نام محمد علی بلتی تھا اور وہ تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق میڈیا انچارج تھے۔
صحافی طاہر خان کے مطابق دو دن لاپتہ رہنے کے بعد خالد بلتی کی لاش نو اور 10 جنوری کی درمیانی شب ننگرہار کے ایک دور دراز سرحدی علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔
رواں ہفتے منگل کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ خالد بلتی کو افغانستان میں ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس وقت کہا تھا کہ وہ فی الحال اُن کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ایک رسمی پیغام میں ان دعوؤں کی بھی تردید کی تھی کہ خالد بلتی ہی درحقیقت اُن کے موجودہ ترجمان محمد خراسانی ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ خالد بلتی کے پاس اس وقت کوئی تحریکی ذمہ داری نہیں تھی۔
آزاد ذرائع کے مطابق اگرچہ خالد بلتی کا افغانستان میں جیل سے رہائی کے بعد تنظیم میں کوئی رسمی عہدہ نہیں تھا مگر وہ تنظیم سے منحرف ارکان اور گروپوں کی تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت کے لیے کافی کامیابی سے سرگرم تھے۔
ذرائع کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے سابقہ طویل تجربے کی بنیاد پر تنظیم کے میڈیا و پروپیگنڈا ونگ میں بھی کافی فعال تھے۔
خالد بلتی کا تحریک طالبان پاکستان میں کردار
تحریک طالبان کے باخبر ذرائع کے مطابق خالد بلتی 2012 سے پہلے سے تحریک کے نشریاتی و پروپیگنڈا شعبے ’عمر میڈیا‘ کے سربراہ رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان ہی ذرائع کے مطابق سال 2014 میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد یعنی شیخ مقبول اورکزئی کی داعش خراسان میں شمولیت کے بعد تحریک طالبان نے افغان طالبان کی طرز پر تنظیم کے ترجمان کی ذمہ داری کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور محمد خراسانی کے فرضی نام سے نئے ترجمان کا تقرر کیا گیا۔
خالد بلتی اس کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے اور وہ بطور محمد خراسانی صحافیوں سے رابطے میں رہتے۔
صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہولناک حملے کے بعد خالد بلتی نے بطور محمد خراسانی صحافیوں سے اس حملے کی ذمہ داری کے لیے رابطہ کیا اور اس سلسلہ میں تنظیم کی طرف سے ذمہ داری قبول کی تھی۔
سابق افغان حکومت کے ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے کے بعد افغان سکیورٹی فورسز نے ننگرہار سے تحریک طالبان پاکستان کے چھ ارکان کو اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جن میں ایک خالد بلتی بھی تھے۔
پاکستان نے سابقہ افغان حکومت سے خالد بلتی کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا مگر افغان حکومت نے ان کی حوالگی کے بدلے میں افغانستان کو مطلوب اور پاکستان میں موجود بعض افغان طالبان کمانڈروں کی حوالگی کی شرط عائد کی تھی۔
اس شرط کے پورا نہ ہونے پر خالد بلتی اور اُن کے ساتھیوں کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا جا سکا تھا۔
گذشتہ سال اگست میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں قیدیوں کو ملک کی مختلف جیلوں سے رہا کیا گیا جن میں خالد بلتی سمیت پاکستان کو مطلوب تحریک طالبان پاکستان کے کئی ارکان بھی شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تعلق گلگت بلتستان سے، تعلیم کراچی سے
ذرائع کے مطابق خالد بلتی تحریک طالبان کے ابتدائی اہم کمانڈروں میں سے تھے جن کا تعلق پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے تھا۔ انھوں نے دینی تعلم و تدریس کے سلسلے میں کافی عرصہ کراچی میں گزارا تھا۔
دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ کراچی کی ممتاز دینی درسگاہ ’جامعۃ الرشید‘ میں تقریباً چھ سال تک بطور استاد خدمات سرانجام دیتے رہے۔ انھوں نے دسمبر 2007 میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے چند ماہ بعد ہی وزیرستان منتقل ہو کر تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
جامعتہ الرشید کا شمار پاکستان کے دیوبندی مکتبہ فکر کے اہم دینی مدارس میں ہوتا ہے جس کا قیام 70 کی دہائی کے اواخر میں مشہور دیوبندی مذہبی رہنما مفتی رشید احمد لدھیانوی نے کیا تھا۔
افغانستان میں طالبان تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستانی مذہبی حلقوں میں جامعۃ الرشید کا افغان طالبان سے قریبی تعلق رہا تھا۔ پاکستان کے مشہور جریدے ’ضربِ مومن‘ کی اشاعت بھی جامعۃ الرشید کی سرپرستی میں ہوتی جو کہ نوّے کی دہائی کے اواخر سے افغان طالبان کا ہمدرد و ترجمان ہفتہ وار میگزین سمجھا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے علاوہ جامعۃ الرشید کا الرشید فلاحی ٹرسٹ افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں وسیع امدادی منصوبوں کا حصہ تھا۔
نائن الیون کے حملوں کے بعد بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے پاکستان میں شروع ہونے والے اسلامی شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے جامعۃ الرشید نے عسکری تنظیموں سے تعلقات پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔
اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ اس ادارہ کے وابستگان میں سے بعض عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے زیر اثر آ کر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا خفیہ حصہ بن گئے تھے، جن میں ایک اہم نام کراچی کے تاجر سعود میمن کا تھا جو 2002 میں کراچی میں قتل ہونے والے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کیس میں گرفتار ہوئے تھے۔
ماضی میں پاکستان سے باہر اسلامی عسکریت پسندوں کی سرپرست سمجھے جانے والی اس درسگاہ کی یہ پالیسی جولائی 2007 میں لال مسجد کے واقع کے بعد مزید سخت ہو گئی جب پاکستان میں ریاست کے خلاف اسلامی شدت پسندوں نے کھلم کھلا ریاست کے خلاف اعلان جنگ کیا۔
جامعۃ الرشید کے ایک سابق طالب علم نے بتایا کہ اس پالیسی سے جامعۃ الرشید کے اساتذہ و انتظامیہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے جن میں ایک گروپ پاکستان میں ریاست کے خلاف مسلح جنگ کے حامی تھی جن میں سرفہرست خالد بلتی تھا۔
ان ہی اختلافات کی بنا پر خالد بلتی جامعۃ الرشید چھوڑ کر اسی ادارے کے دیگر سینیئر اساتذہ، استاد الحدیث مفتی سعید اللہ سواتی، قاری محمد شعیب اور اپنے دیگر ساتھیوں سمیت وزیرستان منتقل ہو کر ریاست کے خلاف اسلامی شدت پسندوں کے جنگ کا ایک اہم کردار بن گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں پاکستانی طالبان کی پراسرار ہلاکتیں
گذشتہ چند برسوں میں پاکستان سے متصل افغانستان کے مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار سمیت دارالحکومت کابل میں پاکستان مخالف تحریک طالبان پاکستان کے کئی اہم کمانڈر پراسرار طور پر مارے گئے ہیں۔
مارے جانے والے ان کمانڈرز میں تنظیم کے سابق نائب امیر شیخ خالد حقانی، آرمی پبلک سکول کے ماسٹر مائنڈ عمر خلیفہ خراسانی کے بھائی اور سواتی طالبان کے اہم کمانڈر شامزئی بابا اور تحریک طالبان پاکستان کے سابقہ دھڑوں جماعت الاحرار اور شہریار محسود گروپ کے سینیئر کمانڈرز قاری شکیل، شہریار محسود، حاجی رشید، مسلم ماما اور ڈاکٹر ابو عبیدہ اسلام آبادی وغیرہ شامل ہیں۔
مختلف ذرائع کے مطابق ان ہلاکتوں کی اہم وجوہات میں شدت پسندوں کے اندرونی اختلافات اور پاکستانی انٹیلیجنس اداروں کی خفیہ کارروائیاں شامل رہی ہیں جن کے لیے پاکستانی اداروں نے ان تنظیموں کے اندر اپنے جاسوسوں سمیت مقامی افغان عوام اور حتیٰ کہ سابق حکومت کے اہلکاروں کو بھی استعمال کیا تھا۔
سنہ 2014 میں پاکستان کے وزیرستان اور خیبر ایجنسی سمیت دیگر سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کے عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کامیاب ملٹری آپریشنز کے بعد افغانستان کے ان صوبوں کے سرحدی علاقے پاکستان طالبان کی پناہ گاہ بن گئے جہاں ریاست مخالف عناصر کے خلاف پاکستانی اداروں نے کئی خفیہ آپریشنز کیے۔
مگر افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آتے ہی یہ سلسلہ رک گیا تھا جس کے بعد افغانستان کے اندر پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کو رہنے اور گھومنے کی آزادی رہی تھی۔ مانا جا رہا تھا کہ اب شاید ان پراسرار ہلاکتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع نہیں ہو سکے گا۔
مگر خالد بلتی کے مارے جانے کے بعد ریاست پاکستان مخالف ان عناصر پر یقیناً ایک نفسیاتی دباؤ رہے گا کہ اب افغانستان میں اُن کی برادر جہادی تنظیم یعنی افغان طالبان کے برسرِ اقتدار ہونے کے باوجود ان کے لیے خطرہ موجود ہے۔












