عراق میں ہتھیاروں کی تلاش ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارے کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے بالآخر عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش ترک کردی ہے۔ عراق میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ایسا معاملہ تھا جسے امریکہ نے عراق پر جنگ مسلط کرنے کے لیے جواز بنایا تھا۔ اب امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کے اعلٰی معائنہ کار چارلز ڈلفر بغداد واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ پچھلے سال اکتوبر میں انہوں نے کہا تھا کہ عراق کے پاس امریکی حملے کے وقت کیمیاوی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کے کوئی ذخائر نہیں تھے۔ یہ حملہ اب سے تقریباً دو سال پہلے کیا گیا تھا۔ تاہم ڈلفر کا کہنا ہے کہ جب عراق سے اقوام متحدہ نے پابندیاں اٹھائیں تھیں تو صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کا پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ چارلز ڈلفر اپنی اس رپورٹ میں کچھ ردو بدل کے بعد اسے حتمی صورت میں اب سے چند ہفتوں بعد جاری کریں گے جبکہ ہتھیاروں کی تلاش کا باب بند کردیا جائے گا۔ امریکی خفیہ ادارے کے حکام کہتے ہیں کہ وہ ابھی بھی دستاویزات کے ایک سمندر کو کھنگال رہے ہیں اور اگر کوئی کام کی معلومات ملیں تو انہیں استعمال بھی کیا جائے گا۔ تاہم نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش کا کام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عراق سروے گروپ جو کہ اس تلاش کے کام کے لیے ذمہ دار تھا، اپنا کام تو جاری رکھے گا تاہم اب ان کی ساری توجہ اس کوشش پر ہوگی کہ عراق میں مزاحمت کو دبایا جائے۔ اس وقت امریکی فوج کے لیے سب سے بڑا مسئلہ عراق میں مزاحمت سے نمٹنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||