BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 February, 2005, 15:34 GMT 20:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سال میں ہزار سے زائد خودکشیاں
News image
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے منگل کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی غربت سے تنگ آ کر ایک ہزار سے زائد لوگوں نےگزشتہ سال کے پہلے دس ماہ میں خودکشی کی جبکہ اتنی ہی تعداد میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال فرقہ وارانہ تشدد اور بد امنی میں گزشتہ سالوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ملک میں انسانی حقوق کی پامالی بدستور جاری ہے۔ کمیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

رپورٹ میں ملک کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بچوں پر تشدد میں اضافے کی نشان دہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے پیچھے ہے اور پاکستان کا تعلیمی بجٹ بھی خطے میں سب سے کم ہے۔ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

کیا آپ اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے؟ فرقہ وارانہ تشدد اور بدامنی میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں؟ کیا حکومت تعلیم اور صحت کے شعبے میں بجٹ بڑھائے بغیر ملکی ترقی کا خواب پورا کرسکتی ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

سہراب عالم، ریاض:
ان مسائل کا کوئی حل نہیں سوائے روزگار کے جو ہمارے ملک میں ہے نہیں اور اگر ہے بھی تو ان لوگوں کے لیے ہے جو اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ صحیح جانو تو یہ کہ ہمارے ملک کے سیاست دانوں میں وہ صلاحیت نظر نہیں آتی کہ وہ ایسے مسائل کو حل کرسکیں۔ ہم اپنے سیاست دانوں سے مایوسی کی حد تک نا امید ہیں۔

علی گمنام، کراچی:
اس کی بنیادی وجہ سیکس فرسٹریشن ہے، کمزور اقتصاد اور گھریلو جھگڑے ہیں۔

ساری ذمہ داری حکومت کی؟
 گورنمنٹ جنرل مشرف کی ہو یا کسی اور کی، جو بھی تعداد خودکشی کرنے والوں کی نوٹ کی گئی ہے اس میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوسکتی تھی۔ پر ہمیشہ کی طرح موجودہ گورنمنٹ پر ہی تمام قصور ڈال دیے جاتے ہیں۔
حمیدالحق، کراچی

حمیدالحق، کراچی:
گورنمنٹ جنرل مشرف کی ہو یا کسی اور کی، جو بھی تعداد خودکشی کرنے والوں کی نوٹ کی گئی ہے اس میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوسکتی تھی۔ پر ہمیشہ کی طرح موجودہ گورنمنٹ پر ہی تمام قصور ڈال دیے جاتے ہیں۔ بےروزگاری کی مرکزی وجہ ہمارا پچھلا تعلیمی معیار تھا، دنیا کمپیوٹر سائنس پر ۔۔۔ تھی اور ہم لوگوں کے کمپیوٹر کو ہوا بنا رکھا تھا، بےشک اب ہم اس ٹیکنالوجی کا صحیح فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ کامیابی بھی حاصل کررہے ہیں پر ہم ان لوگوں کے لئے کچھ نہیں کررہے ہیں جن کے یہاں ٹیکنالوجی واقعتا عام نہیں ہوئی ہے۔

عبدالقدیر انصاری، دوبئی:
یہ ہے پاکستانی قوم کی زبوں حالی کہ سیاست دان بہتری کا دعویٰ کررہے ہیں اور حالات لوگوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے، اس سب کی ذمہ دار حکومت ہے۔ نہ کہ مخصوص مذہبی تنظیمیں۔ مذہبی تنظیموں کو ہدف بنانے واولں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے۔

خالد بھٹی، ملتان:
ایک طرف ہم ان ہستیوں کے سیاسی جانشین ہونے کا دعویٰ کریں جنہوں نے فرات کے کنارے پیاسا مرنے کو بھی اپنی ذمہ داری کہا اور دوسری طرف ہمارے بھرے خزانے والی حکومت کے دور میں ایک ہزار ہنستے بستے خاند خودکشی کی آگ میں جل جائیں تو اسے کون عقل کا اندھا سنجید قرار دے گا۔

فرحت قاضی:
میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ گورنمنٹ سنجیدہ نہیں ہے عوام کے مسائل کے حل کے لئے۔ میرے خیال میں تشدد اور دہشت گردی کی بنیادی وجہ جہالت، غربت اور فوجی حکومتیں ہیں مسلم دنیا میں۔ اگر ہم مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو جمہوریت اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا ہوگا۔

عثمان خان، الخبر:
ان سب باتوں کے الزام صرف حکومت کو نہیں دیا جاسکتا، بلکہ اس کے اصل ذمہ دار خود عوام ہیں، کیونکہ وہ خود ہی اس حکومت کے حق میں نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں چہرے نہیں، بلکہ اپنا پورا نظام بدلنا ہے۔

محمد مغل، ریاض:
پہلی بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک شخص ہمارے اوپر غیرقانونی طور پر حکومت کررہا ہے۔ دوسری بات یہ ہےکہ اس حکومت کے پاس یہ مسئلہ ختم کرنے کے لئے کوئی پروگرام نہیں ہے۔

فدا احمد بلوچ، نصیرآباد:
وہی حکومت عوام الناس کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہوسکتی ہے جس کا تعلق عوام سے ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں عوام کا کوئی شمار نہیں، طاقت کا سرچشمہ عام لوگوں کی بجائے مخصوص طبقے کو گردانا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں خودکشی بدامنی اور لاقانونیت کے سوا کس چیز کی توقع کی جاسکتی ہے۔

فیاز قریشی، ٹورانٹو:
یہ صرف حکومت ہی نہیں، بلکہ پہلے دن سے کسی بھی سیاسی جمعات ان مسائل کے بارے میں سنجیدہ نہیں رہی ہے۔ مشرف سمیت سب کوئی کرپٹ ہے اور اپنے لئے کام کررہا ہے۔ وہ پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں فکر ہی نہیں کرتے۔

ملک دشمن عناصر کون ہیں؟
 یہ ملک دشمن عناصر جو ہمارے ملک کے اندر ہی آستین کا سانپ بن کر پل رہے ہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے فرقہ بازی کی آگ بھڑکا دیتے ہیں اور یہ کافر، وہ کافر کہہ کر مسلمانوں کی جہالت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم مسلمان اتنے جذباتی ہیں کہ ان کو اپنا ہمدرد سمجھ کر دوسرے مسلمانوں کا خون کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہٹے۔
اظہر سہیل، ٹورانٹو

اظہر سہیل، ٹورانٹو:
وجہ کیا ہوگی سوائے اس کے کہ یہ ملک دشمن عناصر جو ہمارے ملک کے اندر ہی آستین کا سانپ بن کر پل رہے ہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے فرقہ بازی کی آگ بھڑکا دیتے ہیں اور یہ کافر، وہ کافر کہہ کر مسلمانوں کی جہالت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم مسلمان اتنے جذباتی ہیں کہ ان کو اپنا ہمدرد سمجھ کر دوسرے مسلمانوں کا خون کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ جس مذہب کو بنیاد بناکر خون کروائے جاتے ہیں اس مذہب میں خون کی سزا موت ہے مگر ہم اپنے جذباتی فطرت سے مذہب کی تعلیم نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔۔۔۔

علی، گلاسگو:
پاکستان میں ہر برائی کی وجہ فوج ہے، جس نے ہر چیز پر قبضہ کر لیا ہے، ہر جگہ فوج ہی فوج نظر آتی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے۔ ملک کا زیادہ بجٹ فوج کھاجاتی ہے اور اب تو اوپینلی لوگوں پہ ظلم ہورہا ہے جس کی تازہ مثال ملٹری فارم کا واقعہ ہے اور بلوچستان میں لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ریپ۔۔۔۔

راشد احمد، لاہور:
چودہ کروڑ میں ایک ہزار کچھ بھی نہیں، کیوں لوگ خودکشی کرتے ہیں؟ یہ تو اسلام میں بھی حرام ہے۔۔۔۔

ابرار، واشنگٹن:
اصل وجہ جمہوریت کی کمی ہے، اچھا ہوتا کہ صحیح معنوں میں جمہوریت ہوتی۔ اگر صحیح میں ہمارے یہاں نمائندہ حکومت ہوتی تو وہ عوام کی فکر کرتی کیونکہ وہ عوام کو جوابدہ ہوتی۔ لیکن ہماری حکومتیں خفیہ معاہدوں کے ذریعے بنتی ہیں، اور وہ جاتنی ہیں کہ جب تک چاہیں اقتدار میں رہ سکتی ہیں، ۔۔۔۔

کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا:
پاکستان کا کیا کہنا جناب، جس ملک کی حکومت قانون دوسروں کو کافر ثابت کرکے فرقہ بازی کا بازار گرم کردے، اس سے کیا توقع؟ اور آپ یہ کہتے ہیں کہ حکومت سنجیدہ نہیں ہے، جانب سنجیدہ تو ہے مگر فتنہ فساد کروانے میں، ظلم کروانے میں، امریکہ کی چمچہ گیری کرنے میں، اب جو کرسکتی ہے وہ ہی کرے گی نہ؟ اور وہ کررہی ہے۔۔۔۔اس میں زیادہ امید کرنی ہی فضول ہے۔

محمد خان، ٹورانٹو:
یہ سراسر حکومت کی غلطی ہے۔۔۔۔

خرم شہزاد، اٹک:
ہمارے ہاں تو کوالٹی تعلیم بھی صرف وی آئی پی کے لئے مختص ہے جن کے سارے خرچے پاکستان کے خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں۔ جہاں ایسا فری کا وی آئی پی کلچر ہو وہاں تو عام لوگ زندہ در گور ہوگئے نا؟ اور مسئلے بھی ان کے حل ہوتے ہیں جنہوں نے لوگوں کے مسائل کرنے تھے، جیسے کہ پارلیمنٹ کے ممبران کو چالیس فیصد تنخواہ میں اضافہ اور دوسری طرف ہر ہفتے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ۔

امین سہیل، ٹورانٹو:
ہاں جی ہماری حکومت سنجیدہ ہے، مگر ظلم کرنے میں، فرقہ واریت پھیلانے اور یہ جو مولوی نما دشمن جرثومے ہیں انہوں نے کون سی قصر چھوڑی ہے، اسلام کی دھجی اڑانے میں۔

جبران خلیل، لاہور:
پاکستان کی رپورٹ دینے والے کیا جانیں اس کو جو ہم دن رات دیکھتے ہیں۔ ہم تو یہ سوچ سوچ کر حیران ہیں کہ جس ملک کا ہر نظام ہی کرپٹ ہو چکا ہو اور ہر جگہ ہی رشوت دھوکہ بازی اور فرقہ بازی کی انتہا ہو وہ ملک کتنی دیر اور چل سکے گا؟ خدا ہی کا رحم ہے جو ابھی تک چلتا آرہا ہے ورنہ یہ ہماری حکومت اور مولویوں کی نسل اور سیاسی جماعتیوں ان کے ارادے تو نہیں ہیں ملک کو سلامت رکھنے کے لئے۔

اصغر خان، برلن:
پاکستانی گورنمنٹ اپنے عوام کو سہولیات دینے میں بالکل ناکام ہوگئی ہے۔ عوام کو نہ نوکریاں ملتی ہیں اور نہ کوئی اور سہولیات اس لئے وہ خودکشی پر مجبور ہیں۔ جرمنی کی حکومت سے سبق سیکھنا چاہئے۔

فوجی چھاؤنیاں بھی ترقیاتی کام؟
پاکستان یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ غربت کا خاتمہ کررہا ہے۔ اور گوادر ڈیولپمنٹ، میگا پروجیکٹ، میرانی ڈیم، کالا باغ ڈیم وغیرہ اور بہت سے ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیاگیا۔ اور سوئی بلوچستان میں چھاؤنیاں بنانا بھی ترقیاتی کاموں کا حصہ ہے۔
حیات خان مری بلوچ، بلوچستان

حیات خان مری بلوچ، بلوچستان:
ایک طرف تو پاکستان یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ غربت کا خاتمہ کررہا ہے۔ اور گوادر ڈیولپمنٹ، میگا پروجیکٹ، میرانی ڈیم، کالا باغ ڈیم وغیرہ اور بہت سے ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیاگیا۔ اور سوئی بلوچستان میں چھاؤنیاں بنانا بھی ترقیاتی کاموں کا حصہ ہے۔ لیکن دوسری طرف ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ نے گورنمنٹ کے تمام دعوں کی نفی کی ہے۔ اور گزشتہ سال میں ایک ہزار لوگوں نے غربت کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔۔۔۔۔

زادا شیر خان، پشاور:
حکومت تو چاہتی یہی ہے کہ غریب لوگ اپنے آپ کو ماریں تا کہ غربت میں کمی ہو۔ آج کل پاکستان میں یہی لگ رہا ہے کہ جب تک غریب ختم نہیں ہوتا، غربت ختم نہیں ہوگی۔ پاکستان آرمی اگر زکات بھی نکال لے تو ایجوکیشن اور ہیلتھ کا بجٹ بن سکتا ہے۔

فرحان صدیقی، شیکاگو:
پاکستان کی حکومت ملک میں غربت میں کمی کے لئے کبھی سنجیدگی سے کسی منصوبے پر غور نہیں کرتی ہے۔ بجٹ کا پچہتر فیصد حصہ صرف فوج پر صرف کیا جارہا ہے۔ ہمیں حکومت اور وسائل دونوں میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

محمد ابراہیم، مکین:
انسانی حقوق کمیشن کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے حکومتِ پاکستان کو آئنہ دکھادیا۔ اس کے بعد مزید رائے کی ضرورت نہیں رہتی لیکن چونکہ میرا تعقل وزیرستان سے ہے تو وزیرستان میں حکومت نے جو انسانی حقوق کی پامالی کی ہے شاید اس کے اثرات لوگوں پر کافی عرصے تک رہیں گے۔ ہم خود آرمی کی زیادتیوں کے گواہ ہیں اور ان یتیموں کو دیکھ سکتے ہیں جو ہمارے درمیان رہتے ہیں۔ لیکن چونکہ پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے تو کون بولتا ہے۔

سید الطاف حیدر، مردان:
بدقسمتی سے موجودہ حکومت پاکستانی عوام کی صحیح نمائندہ حکومت نہیں ہے۔ یہ کافی مضحکہ خیز بات ہے کہ ہماری حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کررہی ہے لیکن فرقہ وارانہ فسادات اور تشدد روکنے میں ناکامیاب ہے۔ ہمارے پاس فارن ایکسنج کی افراط ہے، لیکن لوگ روز بہ روز غریب ہوتے جارہے ہیں۔ زوال کی جانب ہم جلدی سے سفر طے کررہے ہیں۔

نثار فاروقی، جھنگ:
اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان کا یقین خدا کی ذات سے اٹھ جاتا ہے تب وہ خودکشی کرتا ہے۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو:
اس رپورٹ میں صاف صاف کیوں نہیں کہا کہ حکومتِ پاکستان خود ان مظالم میں برابر کی شریک ہے، بھائی جس حکومت کی پالیسی ہی فرقہ واریت پر مبنی ہو اور قانون دوسروں کو کافر ثابت کرکے جس نفرت کی بنیادیں رکھ رہے ہیں اسی کی دہائی سے، اب اس پر پھل تو آئے گا آخر۔ وہ بیج جو ہماری حکومت اور مولویوں نے ملک کر اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے نفرت پھیلا کر لڑوانے کی غرض سے بویا تھا اس پر پھل بھی تو آئے گا نہ اور وہ فصل بھی تو کاٹنی پڑے گی۔

اختر عباس، کراچی:
جی ہاں حکومت کام تو آخر کررہی ہے لیکن صرف اشتہار بازیاں ہورہی ہیں فوجی حکومت صرف اور صرف لوگوں کو بیوقوف بنارہی ہے۔ یہ بات نہیں ہے کہ میں آرمی کے خلاف ہوں، بلکہ فوجی سربراہ جھوٹے سیاستدانوں کی طرح عجیب و غریب بیانات دے رہے ہیں کیونکہ افراط زر اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے، اسی بیان کے نیکسٹ ڈےہی، پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔۔۔۔۔

جاوید، جاپان:
پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔ ان خودکشیوں کے ذمہ دار تو لوٹ مار کرکے محلوں میں بیٹھے ہیں، کیا اسی کو اسلامی ریاست کہتے ہیں۔

اختر ضائم، سوئٹزرلینڈ:
افسوس کی بات ہے کہ لوگ دنیا کے حالات کا مقابلہ کیے بغیر دنیا سے جانا پسند کرتے ہیں۔ تاہم حکومت اتنی جلدی چار پانچ سال میں کیا کرسکتی ہے؟

اجمل عثمانی، کینیڈا:
خودکشیوں کی بنیادی وجہ معاشی صورتِ حال ہے اور ملک کے معاشی حالات فوج کی وجہ سے ابتر ہو رہے ہیں۔

وقار قیصر، جرمنی:
یہ وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے عام آدمی اور نوجوان نسل کے مسائل پر توجہ دیں اور ہر مسئلے کو سیاست اور مذہب کی طرف نہ گھسیٹ کر لے جائیں۔ ہم اکیسویں صدی میں ان مسائل میں گرفتار ہیں۔ ہمیں ایک ویلفیئر سوسایٹی کی تعمیر کرنی چاہیے۔ نوجوان نسل کو تعلیم کے لیے انکی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے تمام سہولیات میسر ہونی چاہئیں۔

حکومت ذمہ دار نہیں۔۔۔۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء اور خوراک کی قیمتوں اور غربت میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بے چینی اور خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
آصف رفیق، لائبیریا

آصف رفیق، لائبیریا:
اس میں کوئی شک نہیں کہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء اور خوراک کی قیمتوں اور غربت میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بے چینی اور خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ دراصل عالمی سطح پر اور پاکستان میں سماج کے مختلف طبقات میں فاصلہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے عوام میں لاقانونیت، دہشت گردی اور انتہا پسندانہ رویئے پیدا ہورہے ہیں۔ تعلیم کی سطح پر مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حکومت کے پاس شرحِ خواندگی بڑھانے کےلیے زیادہ وسائل نہیں ہیں۔ ہمیں سماجی ناانصافی غربت اور عدالتوں میں انصاف ملنے میں تاخیر جیسے مسائل، پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سرکار کے کچھ ادارے نااہل اور بدعنوان ہیں تاہم فرقہ واریت اور دہشت گردی عالمی مسئلے ہیں اور چونکہ پاکستان ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں صفِ اول کی ریاستوں میں سے ہے، اس لیے ہمیں ان مسئلوں کا سامنا کرنا ہی ہوگا۔ دہشت گرد اور حکومت دونوں آپس میں لڑ رہے ہیں اور نشانہ بن رہی ہے عوام۔

بلال بلوچ، کراچی:
حکومت نہ تو ان مسائل کے حل میں اور نہ ہی مستقبل کو بہتر بنانے میں سنجیدہ ہے۔

امتیاز سردار، راولپنڈی:
حکومت کو لوگوں کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف امریکہ کی طرف دیکھتی ہے اور اس کی پالیسی پر عمل کرتی ہے۔

حسن علی، اٹلی:
جو لوگ خودکشی کرتے ہیں وہ ان کی قسمت میں ہوتی ہے۔ کوئی بھی جان بوجھ کر کوئی کام نہیں کرتا لہٰذا سب اوپر والے کی مرضی سے ہورہا ہے۔ تاہم حکومت ان شعبوں کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہی۔

بلوچ،مسئلہ کیا ہے؟
اٹھاون برس میں چار بغاوتیں۔آپ کی رائے
وانا آپریشن: آخر حل کیا ہے؟آخر حل کیا ہے؟
وانا میں فضائی اور زمینی حملے: آپ کی رائے
شائستہ عالمانیروایت کا جبر؟
کیا شائستہ عالمانی کے ساتھ ناانصافی ہوئی؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد