BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 September, 2004, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی تجارت: آپ کیا سوچتے ہیں؟
News image
اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بچوں اور خواتین کی جنسی تجارت تشویش ناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے جہاں یونیسف کے اندازے کے مطابق سالانہ تقریباً پانچ لاکھ خواتین اور بچے پورے براعظم ایشیا کے لیے سمگل کیے جاتے ہیں۔

یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر صادق رشید نے کہا کہ اگر مرد بچوں کا جنسی استحصال بند کر دیں تو بہت سے مسائل کا خاتمہ ’ کل‘ ہو سکتا ہے۔ بچوں اور عورتوں کی تجارت کا مسئلہ اس وجہ سے اور بھی تشویشناک ہو گیا ہےکہ جنگ کی وجہ سے نیپال اور افغانستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے گھروں کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر جنسی تجارت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آپ ا س مسئلے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا پاکستانی معاشرے میں مردوں کا بچوں سے جنسی فعل عام ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا عورتوں اور بچوں کی جنسی تجارت کا خاتمہ ممکن ہے؟ وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ تجارت جاری ہے؟ جنوبی ایشیاء اور خاص طور پر پاکستان کی حکومت کو اس تجارت کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی رائے نیچے درج ہے۔

عبدالوحید، دلی:
میرے خیال میں برطانیہ میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور بچوں پر تشدد کے واقعات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ انگلینڈ میں لڑکیاں تیرہ برس کی عمر میں ہی حاملہ ہو جاتی ہیں لیکن بی بی سی ورلڈ سروس کو صرف ایشیا ہی نظر آتا ہے۔ میرے خیال میں وہ انگلینڈ اور یورپ پر نظر نہیں ڈالتے۔

عامر رحمٰن، وانا:
ملاؤں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔

خالد نجیب، لاہور:
بچوں اور خواتین کی تجارت کی سب سے بڑی وجہ پسماندہ طبقات کا معاشی اور معاشرتی استحصال ہے۔ کیا اقوام متحدہ اسے ختم کر سکتا ہے؟ امریکہ یا کسی اور بڑے ملک میں تو اقوام متحدہ ایسا کر سکتا ہے لیکن جہاں یہ مسئلہ حقیقی شکل میں ہے وہاں یہ کچھ نہیں کرے گا۔ پاکستانی مرد بھی بلاشبہ خواتین اور بچوں کی تجارت میں ملوث ہیں۔ حکومت چاہے تو اسے ختم کر سکتی ہے۔ جاگیردارانہ نظام ختم کر دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

کاشف سلمان الحق، پاکستان:
عورتوں اور بچوں کے بہانے اب کس ملک پر حملہ کرنے کا منصوبہ ہے؟

عمر، جھنگ:
ڈکیتوں کو گرفتارکر لیں۔

شعیب بٹ، چکوال:
میرے خیال میں دیر سے شادی کرنے کے سبب بچوں کا جنسی استحصال کرنے کی طرف رجحان بڑھتا ہے۔ بیشتر لوگ غیرتعلیم یافتہ ہیں اور اس جرم کے لیے کوئی بڑی سزا بھی تجویز نہیں کی گئی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔

عطیہ حئی، کینیڈا:
عورتوں سے اتنی ہمدردی۔ کہیں کلنٹن نے اقوام متحدہ کی ٹیم میں شمولیت تو نہیں کر لی۔

بھیانک کاروبار
 یہ ایک بہت ہی بھیانک کاروبار ہے اور اس کو روکنے کے لیے سخت ترین قانون بنائے جانا چاہیں۔
جاوید اقبال ملک، چکوال

کرن جبران، کینیڈا:
اگر عورتوں اور بچوں سے اتنی ہمدردی ہے تو پھر دنیا میں ہر طرف جو خون خرابہ ہو رہا ہے اس کو کیوں نہیں روکا جاتا کیونکہ اس سے بھی تو بہت سی عورتیں متاثر ہو رہی ہیں اور بچے یتیم ہو رہے ہیں۔

اکبر ملک، اسلام آباد:
پاکستان کے معاشرے میں بچوں سے جنسی فعل کچھ علاقوں میں بہت عام ہے۔ ان علاقوں میں پنجاب کے ڈسٹرکٹ میانوالی، جھنگ، خوشاب اور سرحد کے کچھ علاقے بھی ہیں۔ یہ سب تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہے۔ تعلیم کی شرح میں اضافہ سے اس لعنت سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
یہ ایک بہت ہی بھیانک کاروبار ہے اور اس کو روکنے کے لیے سخت ترین قانون بنائے جانا چاہیں۔

علی رضا چوہدری، اسلام آباد، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ اس قسم کے لوگوں کو شدیدترین سزا دینی چاہیے، تا ہم شکر ہے کہ یہ جرم پاکستان میں اتنا عام نہیں ہے۔

وجیحہ قیوم، میپل، کینیڈا:
یہ مسئلہ تو بہت پرانا ہے، بی بی سی کو اب خیال آیا ہے۔

امن کے فرشتے
 یہ اقوامِ متحدہ کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ اتنی ہمدردی کب سے ہو گئی؟ اقوامِ متحدہ والے پہلے خود ہی اس قسم کے حالات پیدا کرتے ہیں اور پھر امن کے فرشتے بن کر ٹپک پڑتے ہیں۔
ایمن سہیل، کینیڈا

ایمن سہیل، ٹورانٹو، کینیڈا:
یہ اقوامِ متحدہ کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ اتنی ہمدردی کب سے ہو گئی؟ اقوامِ متحدہ والے پہلے خود ہی اس قسم کے حالات پیدا کرتے ہیں اور پھر امن کے فرشتے بن کر ٹپک پڑتے ہیں۔

سیٹھ عبدالرحمٰن، میرپورخاص، پاکستان:
اس مسئلہ کا تدارک ممکن نہیں کیونکہ اس میں بہت سے معاشرتی عوامل کارفرما ہیں۔معاشی بدحالی ان میں سے بہت اہم ہے۔ جہاں تک معاشرتی زوال کا تعلق ہے تو یہ ایک فطری عمل ہے اور کوئی بھی حکومت اس سلسلہ میں
کچھ نہیں کر سکتی۔

فیصل چانڈیو، حیدر آباد، پاکستان:
اس کی وجہ مذہب سے دوری ہے، بھلے وہ کوئی بھی مذہب ہو۔جب تک لوگ مذہبی اقدار پر عمل نہیں کریں گے اس قسم کے گھناؤنے افعال بڑھتے رہیں گے۔

علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان:
پاکستان میں بچوں کا جنسی استحصال بہت ہی کم ہے اور جتنا ہے اس کی بنیادی وجہ شادی میں تاخیر ہے۔ اگر سب لوگ جلد شادی کریں تو مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

راحیل علوی، لاہور، پاکستان:
پاکستان میں اخلاق سوز فلمیں عام دستیاب ہیں اور رہی سہی کسر کیبل نے نکال دی ہے۔ ایسی فلموں اور ٹی وی چینلز کے اثرات اب پاکستان کے دیہی علاقوں میں بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہے۔

مذہب سے دوری
 اس کی وجہ مذہب سے دوری ہے، بھلے وہ کوئی بھی مذہب ہو۔جب تک لوگ مذہبی اقدار پر عمل نہیں کریں گے اس قسم کے گھناؤنے افعال بڑھتے رہیں گے۔
فیصل چانڈیو، حیدرآباد

رضی رحمان، سان فرانسسکو، امریکہ:
میرا خیال میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی خاصی عام ہے اور اس کی بنیادی وجہ معاشرے میں شعور کی کمی، مذہب سے دوری، معاشرتی بدعنوانیاں اور شاید سب سے بڑھ کر پولیس کا رویہ بھی اس سلسلے میں خاصے اہم ہیں۔ اس قسم کے رجحان کو ختم کرنے کا سب سے آسان طریقہ شریعت پر مبنی قوانین کا نفاز ہے۔

عفاف اظہر، سکاربرو، کینیڈا:
یہ آپ بی بی سی والوں نے کیوں زخم ھرے کرنے کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے؟ اور جہاں تک اقوامِ متحدہ کا سوال ہے تو اس سلسلہ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہیں افغانستان اور عراق میں خون خرابہ کروانے کے بعد عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہمدردی جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

عمران احمد اعظمی، نئی دھلی، انڈیا:
جنسی تجارت دنیا کے کسی حصہ میں ہو، اس کی بنیادی وجوہات اخلاقی بگاڑ اور غربت ہیں۔ عورتیں اور بچے اس کا شکار اس لیے بنتے ہیں کہ انہیں غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر دوسرے ممالک جانا پڑتا ہے جہاں پر وہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں جنسی تجارت میں استعمال کرتے ہیں۔ تمام ممالک کو چاہیے کہ اس مسئلہ پر فوری توجہ دیں۔

حماد رضا بخاری، پاکستان:
پاکستان میں مردوں کے ہاتھوں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بہت عام نہیں تا ہم موجود ضرور ہے۔اس کی وجہ مذہب سے دوری، جہالت، بے روزگاری اور نفسیاتی بیماریاں ہیں۔عورتوں اور بچوں کی جنسی تجارت پر قابو پانا بالکل ممکن ہے۔ اس سلسلہ میں سخت سزائیں ہونا چاہئیں۔

جنسی تجارت
 جنسی تجارت دنیا کے کسی حصہ میں ہو، اس کی بنیادی وجوہات اخلاقی بگاڑ اور غربت ہیں۔ عورتیں اور بچے اس کا شکار اس لیے بنتے ہیں کہ انہیں غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر دوسرے ممالک جانا پڑتا ہے جہاں پر وہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں جنسی تجارت میں استعمال کرتے ہیں۔
عمران احمد اعظمی، دہلی، انڈیا

صوبیہ شکیل، روچسٹر،امریکہ:
میرا خیال ہے یہ مسئلہ دہشت گردی سے بھی زیادہ توجہ مانگتا ہے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بہت عام ہے اور زیادہ تر واقعات میں بچوں کے اپنے بڑے اور عزیز اس زیادتی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس سلسلہ میں بچوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

مدثر حسین، سیالکوٹ، پاکستان:
بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم کے خلاف غیر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی سخت اقدامات لینا چاہئیں۔

کامران، پشاور، پاکستان:
ہمارے ملک میں تو صورتِ حال اتنی خراب نہیں لیکن افغانستان اور نیپال جیسے ممالک میں یہ مرض شاید پھیل چکا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ایشیاء بھر کا مسئلہ نہیں ہے۔

شاہد احمد، امریکہ:
جنسی بے راہ روی کا سب سے بڑا ذمہ دار میڈیا ہے۔ عورتوں اور بچوں پر جنسی زیادتیوں کو ختم کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس سلسلے میں والدیں کو چاہیے کہ وہ بچوں میں شعور پیداکریں۔
رحیم اعوان خان، متحدہ عرب امارات:
مجھے ان لوگوں سے شدید نفرت ہے جو اس قسم کی حرکات میں ملوث ہیں، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے تو یہ نہایت مکروہ فعل ہے۔

غلام فرید شیخ، گمبت، پاکستان:
اس بارے میں اسلام کا حکم بالکل واضع ہے اور میرے خیال میں اس دھندے کو ختم کرنے کا واحد طریقہ اسلام کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔

وجوہات
 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی بنیادی وجہ معاشرے میں شعور کی کمی، مذہب سے دوری، معاشرتی بدعنوانیاں اور پولیس کا رویہ بھی ہے۔ اس کو ختم کرنے کا طریقہ شریعت پر مبنی قوانین کا نفاز ہے۔
رضی رحمان، امریکہ

شاہدہ اکرم، ابو ظبی، متحدہ عرب امارات:
اس گھناؤنے کاروبار کو ختم کرنے کی ذمہ داری انفرادی بھی ہے اور حکومتی بھی۔حکومت کی طرف سے سختی ضروری ہے، اس کے بغیر اس برائی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

شہلا سہیل، ٹورانٹو، کینیڈا:
آپ بی بی سی والے ہماری رائے تو ایسے مانگ رہے ہیں کہ جیسے اس جرم میں ملوث لوگ ہماری رائے سے متاثر ہو کر یہ کام چھوڑ دیں گے۔ دوسرا یہ کہ آپ لوگوں کو اقوامِ متحدہ کی باتوں پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اقوامِ متحدہ تو بُش کو بچانے کے لیے اس قسم کے غیر متعلقہ معاملات کو اہمیت دیتی رہتی ہے۔

ظل ہما، شہدادپور، پاکستان:
جناب اس گھٹیا قسم کی تجارت کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے دماغ کی خرابی۔

معظم شہزاد، سیول، کوریا:
پاکستان میں اگر ہوٹلوں میں کال گرلز پر اور بچوں کے لیے ویڈیوگیمز پر پابندیاں ہوں گی تو پھر یہ سب کچھ تو ہو گا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد