BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 22 October, 2004, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محبت کی سزا موت؟
غیرت کے نام پر قتل، آخر کب تک؟
غیرت کے نام پر قتل، آخر کب تک؟
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محبت کی شادی کرنے والی اس لڑکی کی لاش بھی مل گئی ہے جس کے شوہر کو ٹرین کی پٹڑی سے باندھ کر مار دیا گیا تھا۔ لڑکی گزشتہ تین روز سے لاپتہ تھی۔

طلعت نامی اس لڑکی نے دس ماہ پہلے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک تھانے میں درج رپورٹ کے مطابق لڑکی کے بھائی کو دونوں خاندانوں میں بظاہر ہونے والی صلح کے باوجود اس شادی کا رنج تھا۔ تین روز پہلے مبینہ طور پر بھائی نے بدلہ لینے کے لیے اس جوڑے کو ایک رشتہ دار کی مدد سے اغوا کر لیا تھا۔

پاکستان میں آئے دن غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ آپ اس پر کیا سوچتے ہیں؟ کیا غیرت کے نام پر قتل جائز ہے؟ کیا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے؟ کیا ایسا معاشرتی اقدار کی وجہ سے ہورہا ہے؟ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہمارا اس میں کیا کردار ہے؟ کیا آپ ایسے واقعات کے بارے میں جانتے ہیں؟ ہمیں لکھیے۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

رخسانہ قصر قند، کراچی:
خدا سے جو محبت کرتا ہے وہ بندوں سے بھی کرتا ہے۔

ارشد شہزاد، پاکستان:
محبت کی سزا موت نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ مذہب میں جائز نہیں ہے۔ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں غیرشادی شدہ ہیں اور ان کے خلاف شریعت کے مطابق چار گواہ بھی ہیں جو یہ گواہی دیں کہ انہوں نے ان دونوں کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے، تب بھی انہیں موت کی سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ موت کی سزا کا حکم صرف شادی شدہ افراد کے لئے ہے۔

ہارون، کینیڈا:
اس واقعے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ بنیادی اسلامی قوانین کا ذاتی سطح پر مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اور اجتماعی طور پر انہیں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد یوسف اقبال، یو اے ای:
آپ اپنی محبت کو قربان کردیں اگر آپ کے والدین اس رشتے سے خوش نہیں ہیں۔ اور اسلام یہ کبھی بھی نہیں کہتا ہے کہ آپ شادی سے پہلے محبت کرو اور وہ بھی ایک نامحرم سے۔ لیکن اگر کچھ غلط ہوجائے تو اس کی سزا یہ نہیں ہے جو ان معصوم لوگوں کو دی گئی ہے۔

محمد افضال خان، مالیر کراچی:
اس سے کوئی مطلب نہیں کہ آپ کسی کو پسند کرتے ہیں یا محبت کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہر مسلمان کو یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ شوہر اور بیوی کی حیثیت سے رہنے کے لئے کچھ قوانین و ضوابط کو ماننا ہے۔ اس طرح کے مسائل سماج میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ والدین، اساتذہ، دوست اور دوسرے لوگ اخلاقی ذمہ داریوں کے بارے میں اپنا صحیح کردار نہیں ادا کررہے ہیں۔

جہاں زیب خان، میرپور:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹھیک بھی ہوا ہے اور نہیں بھی۔ ایک تو لڑکی کا قصور ہے کہ اس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شادی کی تو دنیا میں بھی عذاب ملا اور آخرت میں بھی۔ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ٹھیک نہیں ہوا وہ یہ بھی سوچیں کہ اگر خود ان کی اپنی بہنیں ایسا کریں تو ان پر کیا گزرے گی؟

فہیم کھٹک، پشاور:
جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کی نشونما صحیح طریقے سے کرنے کے لئے والدین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب وہ بڑا ہوجاتا ہے تو اپنے والدین کی فکر نہیں کرتا۔ یہ سب میڈیا کی وجہ سے ہورہا ہے جو لوگوں کو مذہب اور سماج کے خلاف گائیڈ کررہا ہے۔

نجیب خان، لاہور:
اسلام غیرت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمارے معاشرے پر مردوں کا کنٹرول ہے اور عورتوں کے لئے مساوی حق نہیں ہے۔

آصف ججہ، ٹورانٹو:
کسی کو ہلاک کرنا قتل ہے۔ اس لئے اس کی ریاست کی جانب سے سزا ہونی چاہئے۔ اور آپ کس سماج کی بات کرتے ہیں جہاں کوئی معاشرہ نہیں، کوئی مذہب نہیں، زندگی سے کوئی محبت نہیں، انسانیت کے لئے عزت نہیں۔

اللہ بخش راٹھور، کراچی:
کہتے ہیں کہ محبت ایک تحفہ ہے اور خدا خود سب سے محبت کرتا ہے۔ میرے خیال میں دنیا کا کوئی بھی مذہب محبت کے سلسلے یں اس قدر ظلم کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن پاکستان میں جب کوئی لڑکا محبت کرتا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا لیکن لڑکی کو مجرم قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی غیرت ویرت نہیں ہے بلکہ محض ان لوگوں کا ایک رواج ہے جو لڑکیوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔

امان خان، جنوبی کوریا:
ایک کام کا نہ ہونا، دوسرے جاہل ہونا اور تیسرا یہ کہ پاکستانی قوم کسی کو بھی خوش نہیں دیکھ سکتی۔

کاشف محمود، گوجرہ:
یہ بہت غلط بات ہے اور مجھے ایسے واقعات اور ایسا کرنے والوں سے نفرت ہے۔ ہر شخص کو آزادی سے محبت کرنے کا حق ہے اور جو محبت کا دشمن ہے وہ ساری دنیا کا دشمن ہے۔

فراست زمان، سٹالک ہوم:
اسلام معاشرے میں پیار، محبت اور امن کی تعلیم دیتا ہے لیکن ہمارا معاشرہ مولوی حضرات کی احمقانہ توجیہات پر کاربند ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہے کہ کیا ہم اسلام سے پہلے کے دور کی طرح جہالت کا شکار نہیں؟ ہماری حکومت بھی ایسے واقعات کی ذمہ دار ہے کیونکہ وہ عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

علی وزیر، شمالی وزیرستان ایجنسی:
میرے خیال میں ایسی بیٹی اور بہنکو قتل کر دینا بہت اچھی بات ہے جو اپنے والدین کا کہا نہیں مانتی۔ میرے خیال میں یہ محبت کرنے والوں کا قتل نہیں بلکہ ان لوگوں کو مارا گیا ہے جو اسلامی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔

غلام فرید شیخ، سندھ:
اسلام ہی وہ پہلا مذہب ہے جس نے خواتین کو حقوق دیئے اور ان کی عزت و احترام کا حکم دیا۔ اور یہی عورت جب ماں بن جاتی ہے تو اس کے پیروں کے نیچے جنت آ جاتی ہے۔

باقر سید، یو اے ای:
اسلام اس کی ہر گز اجازت نہیں دیتا اس لیے ایسی کارروائیوں کو فوراً روکنے کی ضرورت ہے۔

مصطفٰی عامر، پاکستان:
ہمیشہ اسلامی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہیے۔ یہی سب کے لیے بہتر ہے اور جنت میں اس کا بڑا اجر ملے گا۔

حکم سعید خان، دبئی:
میرے خیال میں دنیا کو کویی بھی مذہب کسی کو محبت کرنے پر قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات اور انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

احمد اقبال، اٹلی:
مورائے عدالت قتل کے سلسلے میں دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں لیکن اس معاملے کا ایک غور طلب پہلو بھی ہے کہ مذہب نے نکاح کا ایک اخلاقی ضابطہ تجویز کیا ہے کہ نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا لیکن ہمارا قانون اس کے بارے میں خاموش ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن چوری چھپے کی آشنائیوں سے منع کرتا ہے لیکن ہمارا میڈیا دن رات محبت کے پرچار سے نہیں تھکتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو بھی ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار معاشرہ خود ہے۔

جمیل جان، دبئی:
میرے خیال میں یہ اچھا نہیں ہوا۔ زندگی ایک خوبصورت چیز ہے ایسا کرنا اسلام میں حرام ہے۔ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جو کسی کا ذہن کہے وہ وہی کرے۔

حامد، ملتان:
حکومت کو ایسی کارروائیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ اسلام میں بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں اور بحیثیت مسلمان ہمیں ایسے اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے۔

فیاض حسین، پاکستان:
پاکستان میں شادی کا مطلب دو خاندانوں کا ملاپ ہے نہ کہ دو افراد کا۔ محبت کی شادی ایسے ہی ہے جیسے کسی بچے کے ہاتھ میں تلوار تھما دی جائے۔ شادی کے بعد جب میاں بیوی میں چپقلش ہوتی ہے تو لڑکی کے خاندان والے یا والدین اپنی بیٹی کی مدد بھی نہیں کر پاتے۔ محبت کی شادیاں لڑکی کے خاندان اور والدین کے لیے عموماً بدنامی کا داغ بن کر رہ جاتی ہیں۔

مرجان علی خان، جدہ:
غیرت کے نام پر قتل نہایت ہی غیر انسانی اور وہشیانہ فعل ہے۔ قرآن میں واضح فرمان ہے کہ جس نے کسی نفس کو بےقصور قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کیا۔

عظمیٰ مرزا، کینیڈا:
اسلام اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا اور یہ سب معاشرتی اقدار، جھوٹی انا و عزت کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے اور اسے انتہائی سمجھداری سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

خالد عباسی، فیصل آباد:
ہمارا مذہب بالغ افراد کو اپنی پسند سے شادی کی اجازت دیتا ہے اس لیے ہمارے معاشرے کو ایسی شادیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت کو سخت قوانین تشکیل دیبنے چاہئیں۔ ذمہ دار شہری کی حیثیت سے والدین کو شادی بیاہ کے معاملے میں خصوصاً لڑکیوں سے ان کی رائے ضرور جانی چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد