BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 06 September, 2004, 16:48 GMT 21:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹ کیفے کے دس برس: آپکی رائے
ان دس سالوں میں کیا کھویا کیا پایا؟ آپ کی رائے
ان دس سالوں میں کیا کھویا کیا پایا؟ آپ کی رائے
اس مہینے برطانیہ میں انٹرنیٹ کیفے یا سائبر کیفے کو وجود میں آئے دس سال پورے ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج دنیا بھر میں بیس ہزار سے زائد نیٹ کیفے موجود ہیں۔

پاکستان میں بھی نیٹ کیفے اور دکانوں کو وجود میں آئے کم و بیش اتنا ہی عرصہ گزر چکا ہے۔ ا س عرصے میں ان کے فوائد کے ساتھ ساتھ ان کے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں خصوصاً پاکستانی معاشرے کے حوالے سے۔

نیٹ کیفیز میں نہ صرف مبینہ طور پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی فحش سائٹس دیکھی جاتی ہیں بلکہ ان کے دیکھنے والے کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں۔ چند ہی ماہ قبل نیٹ کیفے کے نام سے ایک سی ڈی بھی مارکیٹ میں دھڑا دھڑ بکی جس میں ایک کیفے میں آنے والے جوڑوں کی سرگرمیوں کی خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی گئی۔



آپ کی رائے میں دس سال بعد آج نیٹ کیفے کہاں ہے اور کل کہاں ہو گا؟ کیا ان کے وجہ سے صرف ہمارے معاشرے میں برائی عام ہوئی ہے؟ کیا ان لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ ہوا ہے جو کمپیوٹر خریدنے اور رکھنے کی استطاعت سے محروم ہیں لیکن دنیا سے رابطے میں رہنا چاہتے ہیں؟ ہمیں نیٹ کیفے کو باقی دنیا کی طرح محفوظ اور قابلِ بھروسہ بنانا چاہیے یا انہیں بند کر دینا چاہیے؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


امجد شیخ، سویڈن:
نیٹ کیفے ایک آسان اور سستا طریقہ ہے انٹر نیٹ استعمال کرنے کا مگر خدا جانے پاکستان میں کیوں اسے گھٹیا تفریح، بیہودہ چیٹ اور غیر اخلاقی تصویروں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ہماری حکومت اس بارے میں کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھاتی تو یہ آج سے دس برس بعد بھی ایسے ہی ہوں گے۔ ہمیں اپنی قوم میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ نیٹ انفارمیشن کا اگلا ایٹم بم ہے۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ تمام نیٹ کیفے ایک ہی آئی ایس پی کے ذریعے چلائے جائیں اور اس آئی ایس پی پر وہ تمام فلٹر موجود ہوں جو ان چیزوں کو بلاک کرسکیں۔

صلاح الدین لنگاہ، جرمنی:
میں تو جرمنی میں اپنا نیٹ کیفے کھولنے لگا ہوں۔

راحیل علوی، پاکستان:
نیٹ کیفیز کو بند تو نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جہاں ان کے نقصانات ہیں وہاں فائدے بھی ہیں۔ یہ کمپیوٹر کا دور ہے اور ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے۔ہمیں لوگوں کو تربیت دینے کی ضرورت ہے تا کہ وہ اس کے غلط استعمال سے بچ سکیں۔

عنائت علی، دبئ، یو اے ای:
مستقبل قریب میں کمپیوٹر اور نیٹ کیفے معاشرے کا ضروری حصہ بن جائیں گے اس لیے ضروری ہے کہ ان کے مثبت استعمال کے لیے تیاری کی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ نئی نسل پر ان کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات اٹھائے۔

انٹر نیٹ ایک اچھا مشغلہ بھی ہے۔
 معاشرے میں ہر برائی کی جڑ انٹرنیٹ نہیں ہے۔ یہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک صحت مندانہ مشغلہ ہے۔ نیٹ کیفے کو مزید مقبول بنانے کی ضرورت ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو ایک اچھے مشغلہ کے طور پر اپنا سکیں۔
شیر یار خان، سنگاپور
شیر یار خان، سنگاپور:
قدامت پسند لوگ ہر دور میں نئی ایجادات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ انٹرنیٹ معلومات حاصل کرنے کا ایک جدید ذریعہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ موجودہ معاشرے میں ہر برائی کی جڑ انٹرنیٹ نہیں ہے۔ یہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک صحت مندانہ مشغلہ ہے۔ نیٹ کیفے کو مزید مقبول بنانے کی ضرورت ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو ایک اچھے مشغلہ کے طور پر اپنا سکیں۔

محمد کاشف حسین سیّد، مہراب پور، پاکستان:
شاید چند لوگوں نے ہی انٹرنیٹ کو مفید مقاصد کے لیے استعمال کیا ہوگا، زیادہ تر تو یہ منفی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاھم میرے خیال میں اگرحکومت انٹرنیٹ کی فری سروس شروع کر دے اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اقدامات بھی اٹھائےتو ان سہولتوں کے مثبت استعمال کو فروغ حاصل ہوگا۔
رضی رحمٰن، سان فرانسسکو، امریکہ:
میرے خیال میں اس سلسلے میں فوائد کم اور نقصانات زیادہ سامنے آئے ہیں۔ ہم اپنی روایات اور تہذیب، اور سب سے بڑھ کر مذہبی اقدار کھو رہے ہیں۔ یہ سب شیطانی کھیل ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کا مستقبل
 مجھے لگتا ہے پاکستان میں بھی لوگ آنے والوں برسوں میں انٹرنیٹ کو بےہودہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا چھوڑ دیں گےاور یقین رکھیے ہر دور میں اچھے برے دونوں قسم کے رجحانات سامنے آتے ہیں مگر آخر کار اچھائی برائی پر غالب آجاتی ہے۔
شاہدہ اکرم، ابوظبی، یواےای
شاہدہ اکرم، ابوظبی، یواےای:
پچھلے دس برسوں میں کمپیوٹراور نیٹ کیفے نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
جہاں تک نیٹ کیفے کا سوال ہے تو یہ اس کے استعمال پر منحصر ہے۔ سب لوگ ان جگہوں کوغلط مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرتے۔تعلیمی اداروں میں بھی اچھے برے، دونوں قسم کے طالبعلم ہوتے ہیں۔ ہم سب کو ایک ہی قطار میں نہیں کھڑا کر سکتے۔
مخرب اخلاق ویب سائیٹس پر فائروال ہونی چاہیے مگر یہ حکومت کی
ذمہ داری ہے نہ کہ لوگوں کی۔ ابوظبی کے برعکس پاکستان میں حکومت نے بےشمار کمپنیوں کو انٹرنیٹ کارڈز دے رکھے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

مجھے لگتا ہے پاکستان میں بھی لوگ آنے والوں سالوں میں انٹرنیٹ کو بےہودہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا چھوڑ دیں گےاور یقین رکھیے ہر دور میں اچھے برے دونوں قسم کے رجحانات سامنے آتے ہیں مگر آخر کار اچھائی برائی پر غالب آجاتی ہے۔

ظہیر بابر، روم، اٹلی:
انٹرنیٹ اچھے لوگوں کے لیے اچھا ہے جبکہ بُروں کے لیے بُرا۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
میرے خیال میں ہم نے پایا کم ہے اور کھویا زیادہ۔ جن ملکوں میں تعلیمی معیار بہتر ہے وہاں آپ انٹرنیٹ کو بہتر استعمال میں لا سکتے ہیں مگر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر فحش سائیٹس زیادہ تر انہی ملکوں کی بنائی ہوئی ہیں، یعنی امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک۔

رضوان ا لحق، پیرس، فرانس:
نیٹ کیفیز میں کیبن سسٹم نہیں ہونا چاہیے بلکے سارے ورک اسٹیشن کھلے کمرے میں پڑے ہونے چاہیں۔ یہ فحاشی روکنے کا سب سے آسان طریقہ ہے کیونکہ کوئی شخص بھی سب کے سامنے فحش تصاویر وغیرہ دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔
اگر سکولوں میں میں بنیادی جنسی تعلیم کو رواج دے دیا جایے تو شاید پاکستانی معاشرے میں لوگ سیکس کے بارے میں ایک صحت مندانہ رویہ اپنا سکیں۔ میرے خیال میں پاکستان میں لوگ انٹرنیٹ کو سیکس کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کے لیےاستعمال کرتے ہیں۔ آپ جو چاہے کرلیں، لوگوں کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے۔

محمد فیصل جمال، چکوال، پاکستان:
نیٹ کیفے بذاتِ خود خراب چیز نہیں ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اس سہولت کو زیادو تر غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ طلباء گھنٹوں نیٹ کیفے میں بیٹھے فحش تصویریں دیکھتے رہتے ہیں۔ بدنام زمانہ سی ڈی کو ریکارڈ کرنا اور ریلیز کرنا انتہائی گھٹیا حرکت تھی۔

عفاف اظہر، کینیڈا:
نیٹ کیفیز بند کردینا اس مسئلے کا حل نہیں۔ ہاں اس میں سیکیورٹی ہونے کی ضرورت ہے تاکہ نگرانی کی جا سکے کہ اس کا صحیح استعمال ہورہا ہے یا نہیں۔

قصور نیٹ کیفے کا نہیں
 جہاں تک فحاشی کا سواال ہے تو پاکستان جیسے بند معاشرے میں اگر آپ اس کو نیٹ کیفیز میں روک لیں گے تو یہ کسی اور جگہ ظاہر ہوجائے گی۔
کنول زہرا، لاہور، پاکستان

کنول زہرا، لاہور، پاکستان:
نیٹ کیفے واقعی ان لوگوں کے لیے بہترین ہیں جو کمپیوٹرز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہم لوگوں کو نیٹ کیفیز کو محفوظ اور قابلِ بھروسہ بنانے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان کا صحیح استعمال ہوسکے۔ جہاں تک فحاشی کا سواال ہے تو پاکستان جیسے بند معاشرے میں اگر آپ اس کو نیٹ کیفیز میں روک لیں گے تو یہ کسی اور جگہ ظاہر ہوجائے گی۔ اس میں قصور نیٹ کیفیز کا نہیں، پاکستانی قوانین کا ہے۔

محمد ندیم، ٹورنٹو، کینیڈا:
دس سال بعد لوگ اس قابل ہوجانے چاہئیں کہ وہ ذاتی پی سی خرید سکیں۔ یہ لوگ نیٹ گھر پر استعمال کریں گے اور جو طلباء نہیں خرید سکتے وہ نیٹ کیفیز میں ہی آئیں گے اور صرف فحش سائٹس دیکھیں گے۔

جاوید اقوال ملک، چکوال، پاکستان:
میں خود پاکستان کا سب سے بڑا اور براڈ بینڈ نیٹ کیفے چلا رہا ہوں جس میں پچاس کمپیوٹرز ہیں۔ ہم نے ہر کیبن میں کچھ اچھی باتیں لکھ کر لگائی ہیں مثلاً پورن سائٹس کی جگہ اسلامی سائٹس کھولیں، اپنے غیر مسلم دوستوں کو اسلام کی تبلیغ کریں اور موسیقی کی بجائے قرآن سنیں وغیرہ۔ نیٹ کیفے بند کرنے اور موبائل یا ٹی وی توڑنے کی بجائے لوگوں کے دل و دماغ بدلیں اور انہیں اچھی باتوں کی طرف قائل کریں۔

شیخ محمد اارشد، کینیڈا:
یہ ایک حساس معاملہ ہے جو ایک بلاء کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیل رہا اور جس کا شکار کئی زندگیاں ہوچکی ہیں۔ حکومت اور خاندان سب کو اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس کے لیے سخت قوانین بنانے چاہئیں اور ہمیں اپنے بچوں کو وہ وہ احترام اور عزت دینی چاہیے جس کے وہ حق دار ہیں، صرف محبت سے کچھ نہ ہوگا۔

کرن احمد، ٹورنٹو، کینیڈا:
جب آپ نے اپنی مرضی کی رائے ہی دینی ہوتی ہے تو اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔

رضوان سعید، لاہور، پاکستان:
میرے خیال میں نیٹ کیفے پاکستان میں جہاں ہے وہیں ہی رہے گا۔ ا سکی وجہ سے برائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پہلے ہمارے ہاں ٹرپل ایکس تصاویر یا فلمیں دیکھنا ذرا مشکل کام تھا لیکن انہوں نے لوگوں، خاص طور پر نوجوان نسل کی یہ مشکل حل کر دی ہے۔ اب ایسے لوگ بھیآتے ہیں جن کو نیٹ کی الف بے بھی نہیں پتہ لیکن وہ بھی صرف انہیں فلموں اور تصویروں کے لیے آتے ہیں۔ ہمارے ہاں نیٹ کیفے والوں نے خود ہی ٹرپل ایکس فلمیں انسٹال کر رکھی ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ نیٹ کیفیز کو باقاعدہ رجسٹر کر کے چیک کیا جائے۔ لیکن ہماری حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ وہ خود اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔

سلمان رضا، ٹورنٹو، کینیڈا:
نیٹ کیفے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ صرف فحاشی ہی نہیں اور بھی بہت سے برائیاں اس کی وجہ پھیلی ہیں جیشے کہ بلیک میلنگ، چوریاں، اور آج کل تو نیٹ دہشت گردی۔ پاکستان میں نیٹ کیفیز کو محفوظ بنانے کے لیے پرائیویسی کم کرنی چاہیے اور کیبن کو مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے۔

شاہ نواز شاہنی، راوالپنڈی، پاکستان:
پاکستان میں ہم نے بہت سی چیزیں گنوا دی ہیں۔ ہم نے اپنی اخلاقی اقدار، اپنی ثقافت گنوا دی ہے اور نیٹ کیفے اس بات کا ثبوت ہیں۔ اگر ہم لوگوں کو کوئی سہولیات مہیا کر رہے ہیں تو ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ وہاں ایسے قوانین پر عمل درآمد ہو جن کے ذریعے نوجوان نسل کی درست تربیت ممکن ہو۔ میری رائے میں ان کیفیز کا اس مقصد جنسی سائٹس ہی ہیں، صرف ایک سے دو فیصد لوگ اسے کام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

حماد رضا بخاری، فیصل آباد، پاکستان:
نیٹ کیفیز کے حوالے سے اسلام آباد کا افسوس ناک واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ ایک بڑی مثال ہے کہ ہمارے ہاں نیٹ کیفے کا استعمال برائی اور فحاشی پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس کا سدِّ باب کچھ مشکل نہیں ہے اگر وہاں کیبن ختم کرکے انہیں کھلے ہالز میں بدل دیا جائے۔

انجم گلزار:
یہ بہت بری چیز ہے اور نوجوانوں کو تباہ کر رہی ہے۔

ہوس چھپ چھپ کے
 پابندی لگانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ’ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں‘۔
انجینئر ہمایوں ارشد، کراچی

انجینئر ہمایوں ارشد، کراچی، پاکستان:
نیٹ کیفیز میں جو ہورہا ہے وہ ہمارے قومی کردار کا آئینہ ہے۔ پابندی لگانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ’ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں‘۔ مسلم امت کا مسئلہ صرف ہجرت، جہاد اور خلافت کے ذریعے حل ہوگا۔

آصف ججہ، ٹورنٹو، کینیڈا:
کیا قوم ہیں ہم بھی۔ ہم ہر چیز بند کردینا چاہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ہم ایک دن لوگوں سے کہیں کہ سانس لینا بھی بند کردو۔ آخر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم نیٹ کیفے کیوں بند کرنا چاہتے ہیں؟ غریب لوگوں سے کم قیمت پر معلومات حاصل کرنے کا اور دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا موقعہ کیوں چھینا جائے۔ فحش سائٹس صرف نیٹ کیفے پر ہی تو نہیں دیکھی جاتیں، وہ مذہبی لوگوں کے گھروں میں بھی رات گئے دیکھی جا سکتی ہیں۔ نیٹ کیفے کا کم از کم سب کو پتہ تو ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد